صریرِ خامۂ وارث

امیر خسرو کی غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 03 Jul 2008

امیر خسرو کی خوبصورت ترین غزلوں میں سے ایک غزل پیش کر رہا ہوں، یوں تو خسرو کا سارا کلام ہی تصوف کی چاشنی سے مملو ہے کہ آپ خود ایک صاحبِ حال صوفی تھے، لیکن کچھ غزلیں تو کمال کی ہیں اور یہ غزل بھی انہی میں سے ایک ہے۔

اس غزل کے اشعار مختلف نسخوں میں مختلف ملتے ہیں، میں نے لوک ورثہ اشاعت گھر کے شائع کردہ انتخاب کو ترجیح دی ہے۔ اس غزل کو استاد نصرت فتح علی خان نے بہت دلکش انداز میں گایا ہے۔

شعرِ خسرو
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

ترجمہ
مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا، میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا
فدا ہُوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا

شعرِ خسرو
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

ترجمہ
جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو شکار کیلیے آئے گا۔

قریشی
غزالِ دشت، ہتھیلی پہ سر لئے ہوں گے
اس آس پر کہ تو بہرِ شکار آئے گا

شعرِ خسرو
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

ترجمہ۔
عشق میں جو کشش ہے وہ تجھے اسطرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی، تو اگر میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔

قریشی
کشش جو عشق میں ہے، بے اثر نہیں ہوگی
جنازہ پر نہ سہی، بر مزار آئے گا

شعرِ خسرو
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

ترجمہ
میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آجا کہ میں زندہ رہوں۔ اسکے بعد جبکہ میں زندہ نہ رہوں گا تو پھر تو کس کام کیلیے آئے گا۔

قریشی
لبوں پہ جان ہے، تُو آئے تو رہوں زندہ
رہا نہ میں، تو مجھے کیا کہ یار آئے گا

شعرِ خسرو
بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

ترجمہ
تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل و دین و جان سب چھین لیے ہیں، کیا ہوگا اگر تو اسی طرح دو تین بار آئے گا۔

قریشی
فدا کئے دل و دیں اک جھلک پر خسرو نے
کرے گا کیا جو تُو دو تین بار آئے گا

زمرہ : خسرو شیریں بیاں - کلامِ امیر خسرو | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

محاورہ مابین خدا و انسان - اقبال

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 27 Jun 2008

علامہ اقبال کی پیامِ مشرق سے ایک خوبصورت نظم پیشِ خدمت ہے جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اقبال کی فکر اس میں عروج پر ہے اور جہاں خدا کی زبانی انسان کی ‘ہوس’ کو ظاہر کیا ہے وہیں تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا ہے اور انسان کی محنت اور عظمت بھی بیان کی ہے۔ اقبال کا ‘انسان’ اور ‘انسانیت’ پر ایمان اور اور انسان کا کائنات سے رشتہ بھی اس نظم سے واضح ہوتا ہے۔

محاورہ مابین خدا و انسان

(خدا اور انسان کے درمیان مکالمہ)

خدا

جہاں را ز یک آب و گِل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
(میں نے یہ جہان ایک ہی پانی اور مٹی سے پیدا کیا تھا، تو نے اس میں ایران و توران و حبش بنا لیے۔)

من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی
(میں نے خاک سے خالص فولاد پیدا کیا تھا، تو نے اس سے شمشیر و تیر و توپ بنا لیے۔)

تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را
(تو نے اس سے چمن کے درخت کاٹنے کیلیے کلہاڑا بنا لیا، نغمہ گاتے ہوئے پرندوں کیلیے قفس بنا لیا۔)

انسان

تو شب آفریدی، چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم
(تو نے رات بنائی میں نے چراغ بنا لیا۔ تو نے مٹی بنائی میں نے اس سے پیالہ بنا لیا۔)

بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
(تو نے بیابان، پہاڑ اور میدان بنائے۔ میں نے اس میں خیابان، گلزار اور باغ بنا لیے۔)

من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
(میں وہ ہوں کہ پتھر سے آئینہ/شیشہ بناتا ہوں، میں وہ ہوں کہ زہر سے شربت/تریاق بناتا ہوں۔)

زمرہ : بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبال | 2 تبصرے »

فریدون مشیری کی ایک نظم - معراج

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 20 Jun 2008

فریدون مشیری جدید فارسی شاعری کا ایک معتبر نام ہیں اور نوجوان ایرانی نسل میں انتہائی مقبول، انکی ایک نظم پیش کر رہا ہوں جو مجھے بہت پسند آئی۔

انکا کلام اس ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، وہیں سے یہ نظم حاصل کی ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی ‘جرأت’ خود ہی کی ہے اسلیے اگر کہیں خامی نظر آئے تو درگزر کا طلبگار ہوں۔ فریدون مشیری کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کیجیئے۔

معراج

گفت: آنجا چشمۂ خورشید هاست
(اُس نے کہا، اس جگہ سورجوں کا چشمہ ہے)
آسماں ها روشن از نور و صفا است
(آسمان نور سے روشن اور منور ہیں)
موجِ اقیانوس جوشانِ فضا است
(فضا سمندروں کی طرح جوش مار رہی ہے)
باز من گفتم که : بالاتر کجاست
(میں نے پھر پوچھا کہ اس سے اوپر کیا ہے)
گفت : بالاتر جهانی دیگر است
(اس نے کہا اس سے بالا ایک دوسرا جہان ہے)
عالمی کز عالمِ خکّی جداست
(وہ ایک ایسا عالم ہے کہ عالمِ خاکی سے جدا ہے)
پهن دشتِ آسماں بے انتهاست
(اور آسمانوں کے طول و عرض، پہنائیاں بے انتہا ہیں)
باز من گفتم که بالاتر کجاست
(میں پھر پوچھا کہ اس سے پرے کیا ہے)
گفت : بالاتر از آنجا راه نیست
(اس نے کہا، اس سے آگے راستہ نہیں ہے)
زانکه آنجا بارگاهِ کبریاست
(کیونکہ اس جگہ خدا کی بارگاہ ہے)
آخریں معراجِ ما عرشِ خداست
(ہماری آخری معراج، رسائی خدا کا عرش ہی ہے)
باز من گفتم که : بالاتر کجاست
(میں نے پھر پوچھا کہ اس سے بالاتر کیا ہے)
لحظه ای در دیگانم خیره شد
(ایک لحظہ کیلیئے میری اس بات سے وہ حیران و پریشان ہو گیا)
گفت : ایں اندیشه ها بس نارساست
(اور پھر بولا، تمھاری یہ سوچ اور بات بے تکی اور ناقابلِ برداشت ہے)
گفتمش : از چشمِ شاعر کن نگاه
(میں نے اس سے کہا، ایک شاعر کی نظر سے دیکھ)
تا نپنداری که گفتاری خطاست
(تا کہ تجھے یہ خیال نہ رہے کہ یہ بات خطا ہے)
دور تر از چشمۂ خورشید ها
(سورجوں کے چشمے سے دور)
برتر از ایں عالمِ بے انتها
(اس بے انتہا عالم سے بر تر)
باز هم بالاتر از عرشِ خدا
(اور پھر خدا کے عرش سے بھی بالا)
عرصۂ پرواز مرغِ فکرِ ماست
(ہماری فکر کے طائر کی پرواز کی فضا ہے)

زمرہ : فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ | 3 تبصرے »

خیاباں خیاباں “ٹیگ” دیکھتے ہیں

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 18 Jun 2008

جہانزیب کا شروع کردہ سلسلہ ‘ٹیگ کھیل’ خوب پھل پھول رہا ہے۔ مجھے جناب ساجد اقبال صاحب نے ٹیگ کیا تھا، سو حاضر ہوں جوابات کے ساتھ:

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

سیاہ رنگ کی، مجھے نفرت ہے جرابیں پہننے سے لیکن مجبوراً پہننی پڑتی ہیں

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

جی نہیں۔ 

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

چائے کے ساتھ بسکٹ کھائے کچھ دیر پہلے۔ 

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
مزید پڑھیے »

زمرہ : متفرقات | 4 تبصرے »

اردو محفل کو سلام

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 16 Jun 2008

اردو محفل نہ صرف ایک خوبصورت فورم ہے بلکہ اردو کی ترقی و ترویج کیلیئے کوشاں اور مجھے فخر ہے کہ میں اردو محفل کا حصہ ہوں۔ انہی احساسات میں محو تھا کہ کل کچھ اشعار قلم بند ہو گئے جو کہ یہاں لکھتا ہوں

قطعہ
محفِلِ اردو تجھے میرا سلام
اے دِلِ اردو تجھے میرا سلام
اس جہانِ برق، دل و جاں سوز میں
تُو گِلِ اردو، تجھے میرا سلام

قطعہ
زینتِ اردو ہے تُو اور شان بھی
رونقِ اردو ہے تُو اور جان بھی
فرض کیجے نیٹ کو گر دنیا تو پھر
کعبۂ اردو ہے تُو، ایمان بھی

رباعی
کیا محفلِ اردو کی کروں میں توصیف
ثانی ہے کوئی جس کا نہ کوئی ہے حریف
دیکھے ہیں کثافت سے بھرے فورم، پر
اک نور کی محفل ہے، ہے اتنی یہ لطیف

زمرہ : حدیثِ دل - میری شاعری | 4 تبصرے »

میری ایک تازہ غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 12 Jun 2008

غم نہیں، دُکھ نہیں، ملال نہیں
لب پہ جو ایک بھی سوال نہیں

کیوں ملے مُجھ کو تیسرا درجہ
کیا مرے خوں کا رنگ لال نہیں؟

فکرِ سُود و زیاں سے ہے آزاد
کار و بارِ جنوں وبال نہیں

نظر آتا ہے ہر جمال میں وُہ
اس میں میرا تو کچھ کمال نہیں

مستِ جامِ نگاہِ یار ہوں میں
ہوش جانے کا احتمال نہیں

موت، ڈر، ہار، سب روا لیکن
عشق میں بھاگنا حلال نہیں

خونِ دل بھی جلے گا اس میں اسد
شاعری صرف قیل و قال نہیں

زمرہ : حدیثِ دل - میری شاعری | 6 تبصرے »

اقبال کی ایک فارسی غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 11 Jun 2008

پیامِ مشرق سے علامہ اقبال کی ایک خوبصورت غزل پیشِ ہے، جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔

شعرِ اقبال
صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے

ترجمہ
رات بھر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں آفت لانے والی صبحیں، سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اور ایک دل کو لبھانے والا شعر ایک طرف۔

شعرِ اقبال
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشۂ فرہادے، ایں حیلۂ پرویزے

ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔
مزید پڑھیے »

زمرہ : بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبال | 4 تبصرے »

سر سید کی ایک فارسی غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 05 Jun 2008

مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی شاہکار “کوثر سیریز” کی آخری کتاب “موجِ کوثر” میں سر سید احمد خان کی ایک فارسی غزل کے پانچ اشعار دیے ہیں سو وہ ترجمے کے ساتھ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

شیخ صاحب نے یہ اشعار سر سید کا مذہبی جوش و ولولہ دکھانے کیلیئے دیئے ہیں اور کیا سچ بات کہی ہے شیخ صاحب نے لیکن شاعرانہ نکتہ نظر سے بھی ان اشعار میں سر سید کا زورِ بیان اور صنعتوں کا کمال دیکھیئے، زور بیانِ میں تو یہ اشعار بڑے بڑے کلاسیکی فارسی اساتذہ کے کلام سے لگا کھاتے ہیں۔

فلاطوں طفلکے باشد بہ یُونانے کہ من دارَم
مسیحا رشک می آرد ز درمانے کہ من دارم

(افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں)
مزید پڑھیے »

زمرہ : فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ | 2 تبصرے »

غزل مرزا غالب

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 03 Jun 2008

درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

ہم کو فریاد کرنی آتی ہے
آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے

ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ، خدا خدا کیجے

رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہوگی
پہلے دل درد آشنا کیجے

عرضِ شوخی، نشاطِ عالم ہے
حسن کو اور خود نما کیجے

دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفا
اب حقِ دوستی ادا کیجے

موت آتی نہیں کہیں غالب
کب تک افسوس زیست کا کیجے

زمرہ : غالبِ آشفتہ سر - اردو و فارسی کلامِ غالب | 2 تبصرے »

میں نے اپنی پہلی کتاب خریدی

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 02 Jun 2008

 وہ بھی ایک عجیب دن تھا۔ اسلامیہ کالج سیالکوٹ سے گھر واپس آتے ہوئے نہ جانے جی میں کیا آئی کہ میں نے اپنی سائیکل کا رُخ اردو بازار کی طرف موڑ لیا۔

 ان دنوں میں گیارھویں جماعت میں پڑھتا تھا اور  اپنے کالج کی لائبریری جب پہلی بار دیکھی تو دیکھتا ہی رہ گیا کہ دنیا میں ایک ہی جگہ اتنی کتابیں بھی ہوتی ہیں، ناول اور کہانیاں تو خیر میں بچپن سے ہی پڑھا کرتا تھا لیکن اردو ادب سے صحیح شناسائی کالج میں پہنچ کر ہوئی اور وہ بھی اتفاقاً۔ ہوا کچھ یوں کہ میرے ایک اسکول کے دوست، جو کالج میں بھی ساتھ ہی تھا، کی بڑی بہن کو کرنل محمد خان کی کتاب “بجنگ آمد” درکار تھی جو کہ انکے کالج کی لائبریری میں نہیں تھی، انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اپنے کالج میں پتا کرو، اور بھائی صاحب نے مجھے پکڑا کہ چلو لائبریری، خیر وہ کتاب مل گئی لیکن واپس کرنے سے پہلے میں نے بھی پڑھ ڈالی۔

 اس کتاب کا پڑھنا تھا کہ بس گویا دبستان کھل گیا، مزید پڑھیے »

زمرہ : جگرِ لخت لخت - میری یادیں | 9 تبصرے »

خوشامد از سر سید احمد خان

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 30 May 2008

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ مزید پڑھیے »

زمرہ : حیاتِ جاوید - مضامینِ سر سید احمد خان | 2 تبصرے »

غالب کی ایک فارسی غزل مع منظوم تراجم

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 28 May 2008

شعرِ غالب
ز من گرت نہ بود باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا

اردو ترجمہ خواجہ حمید یزدانی
میں تیرے انتظار میں ہوں، اگر تجھے اس کا یقین نہیں ہے تو آ اور دیکھ لے۔ اس ضمن میں بہانے مت تلاش کر، بے شک لڑنے جھگڑنے کا طور اپنا کر آ۔

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
میرے شوق دا نیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا
اینویں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کی تو سوچنا ایں سِتمگار آ جا

منظوم اردو ترجمہ صوفی تبسم
دکھا نہ اتنا خدا را تو انتظار آ جا
نہ ہو ملاپ تو لڑنے کو ایک بار آ جا

منظوم ترجمہ چوہدری نبی احمد باجوہ
نہیں جو مانتے تم میرا انتظار آؤ
بہانہ جو نہ بنو، ہاں ستیزہ کار آؤ

منظوم ترجمہ اردو افتخار احمد عدنی
تجھے ہے وہم، نہیں مجھ کو انتظار آجا
بہانہ چھوڑ، مری جاں ستیزہ کار آجا

انگلش ترجمہ پروفیسر رالف رسل
You cannot think my life is spent in waiting? Well then, come
Seek no excuses; arm yourself for battle and then come
مزید پڑھیے »

زمرہ : غالبِ آشفتہ سر - اردو و فارسی کلامِ غالب | 3 تبصرے »

میری ایک غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 26 May 2008

 ایک غزل جو کچھ عرصہ قبل کہی تھی اور غالب کی زمین میں ہے۔

رازِ معراجِ ظاہرا کیا ہے
شانِ احمد، مرے خدا کیا ہے

اس گدائے کوچہء دلبر کو
اَ رِ نی کا یہ آسرا کیا ہے

راہِ عشقِ بتاں میں کب سوچا
ابتدا کیا تھی، انتہا کیا ہے

جلوہ گر ہے جمالِ واحد ہی
ہم نہ جانیں کہ دوسرا کیا ہے

بے خودیء وصال میں بُھولا
اُس سے یہ کہنا کہ رضا کیا ہے

اِس ہنسی سے نہ دھوکہ دو ہم کو
حالِ دل اب تُو سچ بتا کیا ہے

وہ مقامِ بقا پہ ہیں فائز
جانتے ہیں جو کہ فنا کیا ہے

سینہء دو جہاں نما میں اب
دردِ دل کے سوا رہا کیا ہے

حورِ جنت کے آگے اے واعظ
نازنیں کون، دل رُبا کیا ہے

بھوک پھیلی ہے چار سُو یا رب
کھیت میں کنزِ بے بہا کیا ہے

جو اسد ہے غزل سرا ایسے
شرم پھر میرے غالِبا کیا ہے

زمرہ : حدیثِ دل - میری شاعری | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

میری ایک رباعی

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 26 May 2008

انسانِ کبیر کیسے ہے کائنات؟
یا ہیں مجبورِ محض یہ دن اور رات؟
سر مارا بہت مگر نہ پایا یہ راز
اب کھول خدایا تُو ہی مجھ پر سچ بات

زمرہ : حدیثِ دل - میری شاعری | 2 تبصرے »

امیر خسرو کی ایک غزل

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 26 May 2008

 شعرِ خسرو
ابر می بارد و من می شوم از یار جدا
چون کنم دل بہ چنین روز ز دلدار جدا

ترجمہ
برسات کا موسم ہے اور میں اپنے دوست سے جدا ہو رہا ہوں، ایسے (شاندار) دن میں، میں کسطرح اپنے دل کو دلدار سے جدا کروں۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ابر روتا ہے، ہُوا مجھ سے مرا یار جدا
دل سے ایسے میں کروں کیسے مَیں دلدار جدا
مزید پڑھیے »

زمرہ : خسرو شیریں بیاں - کلامِ امیر خسرو | 2 تبصرے »

پاکستان سپیکٹیٹر پر میرا انٹرویو

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 23 May 2008

دی پاکستان سپیکٹیٹر کی محترمہ غزالہ خان نے کچھ دن پہلے یہاں میرے انٹرویو کی بات کی تھی، میں نے انہیں لکھا کہ میں تو بلاگنگ کی دنیا میں بالکل نووارد ہوں اور ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں بلاگ لکھتے ہوئے، اسلیئے ایک دفعہ پھر دیکھ لیجیئے کہ میں انٹرویو کے قابل ہوں بھی یا نہیں۔

بہرحال انہوں نے سوالات مجھے بھیج دیئے جن کے جواب میں نے بھی لکھ بھیجے، اور کل یہ انٹرویو چھپ گیا، جسے اس ربط پر پڑھا جا سکتا ہے۔ 

زمرہ : متفرقات | 6 تبصرے »

میں اور عمران سیریز کے ناول

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 21 May 2008

“اوئے الو کے پٹھے” ۔۔۔ والد صاحب نے دھاڑتے پوئے مجھے پکارا۔

“جی، جی۔۔۔۔۔ ابو جی۔۔۔۔۔۔” میں نے کہنے کی کوشش کی، مگر جیسے میری آواز میرے اندر ہی کہیں مر چکی تھی۔

“اوئے تو پھر یہ گھٹیا ناول پڑھ رہا ہے، خبیث۔۔۔۔”

ہوا کچھ یوں تھا، کہ اللہ جنت نصیب کرے، والد صاحب مرحوم نے محلے کی ساتھ والی گلی میں ایک گھر کے باہر بیٹھے ہوئے مجھے عمران سیریز کا ناول پڑھتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

اس سے پہلے والد صاحب، گھر میں مجھے کئی بار منع کرچکے تھے بلکہ پٹائی ہوتے ہوتے بچی تھی، اسکا حل میں نے یہ ڈھونڈا ہوا تھا کہ محلے کی ایک ایسی گلی میں کسی کے گھر کے باہر بیٹھ کر میں ناول پڑھا کرتا تھا جسکے بارے میں مجھے پورا یقین تھا کہ والد صاحب ادھر نہیں آئیں گے، لیکن اس دن میری قسمت خراب تھی کہ چھاپہ پڑگیا۔
مزید پڑھیے »

زمرہ : جگرِ لخت لخت - میری یادیں | 3 تبصرے »

پنجابی غزل - واصف علی واصف

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 21 May 2008

ایہہ بن سَن موتی انمول
ہنجو سانبھ کے رکھنا کول

شہر دے بُوے کُھل جاون گے
پہلے دِل دا بُوا کھول

جس دے ناں دی ڈھولک وجدی
اوسے یار نوں کہندے ڈھول

جو کِیتا تُوں چنگا کِیتا
دَبّی رہن دے، اَگ نہ پھول

میرے ورگا مل جاوے گا
پہلے اپنے ورگا ٹول

سونے ورگی اے جوانی
اینویں نہ مٹی وِچ رول

اج تے پتھّر وی پُچھدا اے
کیہہ چاہناں ایں واصف بول

(واصف علی واصف - بھرے بھڑولے)

زمرہ : پنجاب رنگ - پسندیدہ پنجابی شاعری | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

شعر - منیر نیازی

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 21 May 2008

بدل اُڈے تے گم اسمان دسیا
پانی اتریا تے اَپنا مکان دسیا

اوتھوں اگے فراق دیاں منزلاں سَں
جتھے پہنچ کے تیرا نشان دسیا

کم اوہو منیر سی مشکلاں دا
جہیڑا شروع وچ بوت اسان دسیا

زمرہ : پنجاب رنگ - پسندیدہ پنجابی شاعری | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

چار چُپ چیزاں - منیر نیازی

مصنف : محمد وارث :: بتاریخ 21 May 2008

بربر، جنگل، دشت، سمندر، سوچاں دے پہاڑ
جیہڑے شہر دے کول ایہہ ہوون اوس نوں دین وگاڑ
اندروں پاگل کر دیندی اے، ایہناں دی گرم ہواڑ
ایہناں دے نیڑے رہن لئی، بڑی ہمت اے درکار
ایناں دی چُپ دی ہیبت دا کوئی جھل نہ سکدا بھار

زمرہ : پنجاب رنگ - پسندیدہ پنجابی شاعری | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »