بلاگ کی منتقلی

متفرقات 5 آراء »

اور بلآخر ایک مشکل فیصلہ میں نے کر ہی لیا اور وہ ہے بلاگ کی منتقلی۔

یہ اس بلاگ پر میری آخری پوسٹ ہے اور اب میرا بلاگ اس ربط پر منتقل ہو گیا ہے

http://muhammad-waris.blogspot.com/

اس فیصلے کی کافی ساری وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم نستعلیق فونٹ ہے کہ نستعلیق فونٹ کو برقی دنیا کے رگ و پے میں دوڑتے ہوئے دیکھنا میرا ایک دیرینہ خواب تھا جو کہ کچھ ماہ پہلے شرمندۂ تعبیر ہو بھی گیا لیکن افسوس کہ میں اس سے فیض یاب نہ ہوسکا۔

میں نے اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ کے ایڈمن صاحب سے اس بارے میں درخواست کی تھی لیکن شو مئی قسمت سے شنوائی نہ ہوئی۔

تمام احباب سے گزارش ہے کہ اگر ہو سکے تو میرے بلاگ کا ربط اپڈیٹ کر لیں ویسے میں فرداً فرداً درخواست بھی کرونگا۔

اور آخر میں اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ اور اسکے ایڈمن جناب بدتمیز صاحب کا بہت شکریہ جنہوں نے اتنے عرصے تک اردو کی محبت میں ہمیں یہ فری سروس فراہم کی۔

اور چلتے چلتے غالب کا ایک شعر

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالب

جادہِ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

ابھی تو میں جوان ہوں - حفیظ جالندھری

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری 3 آراء »

ابو الاثر حفیظ جالندھری نے اپنی شاعری کے بارے میں کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا۔

تشکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصّہ ہے
نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں

پاکستان میں عام طور پر حفیظ جالندھری، ترانۂ پاکستان کے خالق ہونے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور اردو شاعری کی دنیا میں اپنی مثنوی “شاہنامہ اسلام” کے حوالے سے، لیکن ان کی کچھ غزلیں اور نظمیں بھی ایسی ہیں جو اردو ادب میں زندہ جاوید ہو چکی ہیں اور انہی میں سے ایک “ابھی تو میں جوان ہوں” ہے۔

Hafeez Jalandhari

ابھی تو میں جوان ہوں

ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ، اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبُو، سبُو اٹھا
سبُو اٹھا، پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں
ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں

خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے
نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ادائیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر کوئی اُدھر
ابھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمھارا نقطۂ نظر

درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں

نہ غم کشود بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا
نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم
حواس گم، قیاس گم
نظر کے آس پاس گم
ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطربا
طرب فزا، الم رُبا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لپ پہ ہو صدا

پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

یہ گشت کوہسار کی
یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے
یہ گل رخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا
تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا
یہ ہنس گیا وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں
اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دل نشیں
انھیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں

نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں

——–

بحر - بحر ہزج مربع مقبوض
(مربع یعنی ایک شعر میں چار رکن یا ایک مصرع میں دو رکن)

افاعیل - مَفاعِلُن مَفاعِلُن
(آخری رکن میں مسبغ شکل یعنی مفاعلن کی جگہ مفاعلان بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 2121 2121
(آخری 2121 کی جگہ 12121 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

ہوا بھی خوش گوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پر بہار ہے

ہوا بھی خُش - مفاعلن - 2121
گوار ہے - مفاعلن - 2121

گلو پِ بی - مفاعلن - 2121
نکار ہے - مفاعلن - 2121

تَرَن نُ مے - مفاعلن - 2121
ہزار ہے - مفاعلن - 2121

بہار پر - مفاعلن - 2121
بہار ہے - مفاعلن - 2121

بابائے اردو شاعری، ولی دکنی کی ایک غزل

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری 2 آراء »

بابائے اردو شاعری، شمس ولی اللہ المعروف بہ ولی دکنی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ نے اردو شاعری کو حسن عطا کیا اور جو شاعری پہلے صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کی جاتی تھی آپ نے اسے باقاعدہ ایک صنف کا درجہ دیا اور یوں ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر اردو شاعری کی پرشکوہ عمارت تعمیر ہوئی۔

مولانا محمد حسین آزاد، “آبِ حیات” میں فرماتے ہیں۔

“اس زمانے تک اردو میں متفرق شعر ہوتے تھے۔ ولی اللہ کی برکت نے اسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری، نظمِ فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں، تمام بحریں فارسی کی اردو میں لائے۔ شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا، ردیف وار دیوان بنایا۔ ساتھ اسکے رباعی، قطعہ، مخمس اور مثنوی کا راستہ بھی نکالا۔ انہیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی کی نظم میں چوسر شاعر کو اور فارسی میں رودکی کو اور عربی میں مہلہل کو۔”

Wali Dakani

مولانا آزاد کے زمانے تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا شاعر مانا جاتا تھا، جدید تحقیق سے گو یہ اعزاز تو انکے پاس نہیں رہا لیکن اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے جو اوپر مولانا نے کہی ہے۔

ولی کی ایک خوبصورت غزل لکھ رہا ہوں، اس غزل میں جو متروک الفاظ ہیں انکے مترادف پہلے لکھ دوں تاکہ قارئین کو دشواری نہ ہو۔

سوں - سے
کوں - کو، کر
یو - یہ
سری جن - محبوب

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

دی حق نے تجھے بادشَہی حسن نگر کی
یو کشورِ ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا

تعریف ترے قد کی الف دار، سری جن
جا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا

مجھ پر نہ کرو ظلم، تم اے لیلٰیِ خوباں
مجنوں ہوں، ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا

دیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی
اس خواب کو جا یوسفِ کنعاں سوں کہوں گا

جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
یہ سوز ترا مشعلِ سوزاں سوں کہوں گا

یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نہیں بے جا
اس مُکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا

زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی انی نے
یہ زخم ترا خنجر و بھالاں سوں کہوں گا

بے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہرگاہ
جلدی سوں ترے درد کی درماں سوں کہوں گا

———————

بحر - بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف

افاعیل: مَفعُولُ مَفَاعیلُ مَفَاعیلُ فَعُولَن
(آخری رکن فعولن کی جگہ فعولان یا مفاعیل بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 122 1221 1221 221
(آخری رکن 221 کی جگہ 1221 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا

تج لب کِ - مفعول - 122
صِفَت لعل - مفاعیل - 1221
بدخشا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221

جادو ہِ - مفعول - 122
ترے نین - مفاعیل - 1221
غزالا سُ - مفاعیل - 1221
کہو گا - فعولن - 221

ڈائری سے بلاگ تک

جگرِ لخت لخت - میری یادیں 14 آراء »

یادش بخیر، شاید میٹرک میں تھا کہ والد صاحب مرحوم نے تحفے میں‌ ملی ہوئی ایک ڈائری مجھے عنایت کردی۔ چند دن تک تو ڈائری یونہی پڑی رہی، پھر‌ سوچا کے اس میں کچھ لکھا جائے، سو سب سے پہلے ‘خود ساختہ’ محبت کی روداد لکھنے کی سوجھی!

لکھنے کا سوچا تو خیال آیا کہ اگر کسی نے پڑھ لی تو قیامت آ جائے گی، عمران سیریز پڑھنے کا اثر تو تھا ہی ذہن پر، سو فیصلہ کیا کہ اسے کسی کوڈ میں لکھا جائے اور وہ یہ کے ہر لفظ کو الٹا لکھ دو، ابھی شاید ایک جملہ ہی لکھا ہوگا کہ غبارے میں سے ہوا نکل گئی کہ یہ تو بہت آسان ہے، اسے مشکل بناؤ۔ جمع، نفی، ضرب اور تقسیم کو نمبر لگائے اور پھر ان کو حروفِ تہجی پر تقسیم کر کے علامتیں بنا لیں اور ان علامتوں‌ میں لکھنا شروع کیا۔ روداد اسطرح خاک لکھتا ایک ایک جملہ لکھنے کیلیے گھنٹوں‌ لگ جاتے تھے سو تائب ہو گیا۔

خیر، کالج پہنچا اور کچھ شعور آیا تو ایک دوسری ڈائری خریدی، اور اس میں اپنی بے وزن اور بے تکی شاعری لکھنی شروع کی، لیکن اس میں کافی مکالمے بھی لکھے تھے۔

یہ مکالمے چار اشخاص کے درمیان تھے، ایک وہ جو اپنا نصاب دل لگا کر پڑھتا تھا، دوسرا وہ جو اردو شعر و ادب و مطالعہ سے جنون کی حد تک محبت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ ہر وقت غیر نصابی کتب ہی پڑھی جائیں، تیسرا وہ جو یار باش تھا اور رات دیر گئے تک سیالکوٹ کینٹ کے ہوٹلوں میں دوستوں ‌کے ساتھ بیٹھ کر چائے اور سگریٹ پیتا تھا۔ تینوں کے شوق الگ تھے سو ایک دوسرے سے نالاں تھے، اور چوتھا انکا اجتماعی ضمیر تھا جو تھا تو مردہ لیکن ہمیشہ کفن پھاڑ کر بولتا تھا۔

یہ ڈائری کئی سال میرے پاس رہی لیکن لاہور میں ہاسٹل میں‌ کہیں‌ گم ہو گئی اور میرا ڈائری لکھنا بھی ہمیشہ کیلیے موقوف ہو گیا اور پھر کوئی بارہ برس کے بعد، جو کہ بہت سے بزرگوں کے نزدیک ایک منزل ہوتی ہے، میرے ہاتھ یہ بلاگ لگا اور اب مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ اپنی ڈائری ہی لکھ رہا ہوں اور شاید ہے بھی ایسا ہی، ہاں‌ فرق ہے تو اتنا کہ ڈائری کبھی چھپ چھپ کر تنہائیوں میں لکھا کرتا تھا اور بلاگ بقولِ شاعر

ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا

علامہ اقبال کی ایک خوبصورت فارسی غزل مع ترجمہ

بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبال 3 آراء »

زبورِ عجم میں سے علامہ اقبال کی درج ذیل غزل ایک خوبصورت غزل ہے۔ اس غزل میں ترنم ہے، شعریت ہے، اوجِ خیال ہے اور علامہ کا وہ روایتی اسلوب ہے جو اول و آخر صرف انہی سے منسوب ہے۔ اسی اسلوب کی وجہ سے ایران میں علامہ ہندوستان کے سب سے اہم فارسی شاعر سمجھے جاتے ہیں۔

Allama Iqbal

ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے

میں تو (حقیقی) سلطان ہی سے نگاہ کی آرزو رکھتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں مٹی سے معبود نہیں بناتا۔

دلِ بے نیازے کہ در سینہ دارَم
گدا را دھَد شیوۂ پادشاہے

وہ بے نیاز دل جو میں اپنے سینے میں رکھتا ہوں، گدا کو بھی بادشاہ کا انداز عطا کر دیتا ہے۔

ز گردوں فتَد آنچہ بر لالۂ من
فرَوریزَم او را بہ برگِ گیاہے

آسمان سے جو کچھ بھی میرے پھول (دل) پر نازل ہوتا ہے میں اسے گھاس کے پتوں پر گرا دیتا ہوں (عام کر دیتا ہوں)۔

چو پرویں فرَو ناید اندیشۂ من
بَدریوزۂ پر توِ مہر و ماہے

میرا فکر ستاروں کی طرح نیچے نہیں آتا کہ چاند اور سورج سے روشنی کی بھیک مانگے۔

اگر آفتابے سُوئے من خرَامَد
بشوخی بگردانَم او را ز راہے

اگر سورج میری طرف آتا ہے (مجھے روشنی کی بھیک دینے) تو میں شوخی سے اسے راستہ میں ہی سے واپس کر دیتا ہوں۔

بہ آں آب و تابے کہ فطرت بہ بَخشَد
درَخشَم چو برقے بہ ابرِ سیاہے

اس آب و تاب سے جو مجھے فطرت نے بخشی ہے، میں سیاہ بادلوں پر بجلی کی طرح چمکتا ہوں۔

رہ و رسمِ فرمانروایاں شَناسَم
خراں بر سرِ بام و یوسف بچاہے

میں حکمرانوں (صاحبِ اختیار) کے راہ و رسم کو پہچانتا ہوں کہ (ان کی کج فہمی سے) گدھے چھت (سر) پر ہیں اور یوسف کنویں میں۔

——–

بحر - بحر متقارب مثمن سالم

افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن

اشاری نظام - 221 221 221 221

تقطیع -

ز سلطاں کُنَم آرزوے نگاہے
مسَلمانم از گِل نہ سازَم الٰہے

ز سُل طا - فعولن - 221
کُ نَم آ - فعولن - 221
ر زو اے - فعولن - 221
نِ گا ہے - فعولن - 221

مُ سل ما - فعولن - 221
نَ مز گِل - فعولن - 221 (الفِ وصل استعمال ہوا ہے)
نَ سا زم - فعولن - 221
اِ لا ہے - فعولن - 221

میری ایک نئی غزل

حدیثِ دل - میری شاعری 2 آراء »

اس غزل کا پہلا مصرعہ کم و بیش سات آٹھ ماہ تک میرے ذہن میں اٹکا رہا، لیکن ایک ماہ پہلے، جن دنوں کہ بلاگ سے فرصت تھی ایک رات یہ غزل مکمل ہو گئی سو یہاں لکھ رہا ہوں۔

چھیڑ دل کے تار پر، کوئی نغمہ کوئی دُھن
امن کی تُو بات کر، آشتی کے گا تُو گُن

ریشہ ریشہ تار تار، چاہے ہوں ہزار بار
سُن مرے دلِ فگار، وصل کے ہی خواب بُن

لوبھیوں کی بستی میں، مایا کے ترازو سے
فیصلہ کرے گا کون، کیا ہے پاپ کیا ہے پُن؟

سانس ہیں یہ چند پَل، آج ہیں نہیں ہیں کل
ہاں امَر وہ ہو گیا، زہر جام لے جو چُن

قریہ قریہ شہر شہر، موج موج لہر لہر
نام تیرا لے اسد، مہرباں کبھی تو سُن

واپسی کا سفر

متفرقات 16 آراء »

اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد بہت شکریہ بدتمیز کا اور زیک کا، جن دونوں کی کاوشوں سے ہمیں اپنا بلاگ واپس مل گیا ہے۔

ڈیٹا کی مجھے کبھی بھی فکر نہیں تھی اور نہ اب ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا تھا اپنے بلاگ پر وہ سب میرے ذہن میں محفوظ ہے، بلکہ میرا تعلق تو عرفی شیرازی کے قبیلۂ عاشقی سے ہے جس کا چھ ہزار اشعار پر مشتمل دیوان ضائع ہو گیا تو اسکے غم میں اس نے ایک مرثیہ لکھا لیکن اس مرثیے کا یہ شعر پچھلے کئی سالوں سے میرے سامنے ہے:

گفتہ گر شد ز کَفَم، شکر کہ نا گفتہ بجاست
از دو صد گنج، یکے مشتِ گُہر باختہ ام

اگر کہا ہوا میرے ہاتھ سے چلا گیا ہے تو (کیا فکر اور) شکر کہ نا کہا ہوا تو موجود ہے، کہ میرے بیش بہا خزانے سے صرف ایک مٹھی بھر گوہر ہی گئے ہیں۔

لیکن زیک کی محنت اور محبت کی وجہ سے مکمل ڈیٹا بھی واپس مل گیا ہے جس کیلیے میں انکا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔

اس مسئلے کے آغاز پر میں نے ایک فیصلہ کیا تھا، اور اس پر اب تک قائم تھا۔ اب جبکہ صورتحال بدل گئی ہے تو پھر سے جائزہ لونگا اور پھر کوئی فیصلہ کرونگا کہ بلاگ کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ فی الحال تو یہ کہ جو تھیم مجھے بہت پسندد تھا وہ اب موجود ہی نہیں ہے سو موجودہ تھیم سے کام چلا رہا ہوں۔

آخر میں کچھ دوستوں کا شکریہ مجھ پر فرض ہے، جنہوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی کی، ہمت بندھائی، مجھے فری ہوسٹنگ آفر کی، ان میں اردو محفل کے سید نبیل حسن نقوی صاحب، اردو کے بہترین بلاگ کا اعزاز حاصل کرنے والے جناب راشد کامران صاحب، جہانزیب اشرف صاحب، الف نظامی صاحب اور قابلِ احترام جناب ڈفر صاحب شامل ہیں، اسکے علاوہ ان تمام دوستوں کا بھی بہت شکریہ جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمت بندھائی اور تاسف و افسوس کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دیں۔

اور آخر میں فقط اتنا کہ

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالب
جادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

اختر شیرانی کی ایک شاہکار نظم - اے عشق کہیں لے چل

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری 2 آراء »

عین عالمِ شباب میں وفات پا جانے والے محمد داؤد خان اختر شیرانی، 1905ء تا 1948ء، دنیائے اردو میں “شاعرِ رومان” کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق ایک ادبی اور علمی خانوادے سے تھا کہ آپ کے والد حافظ محمود شیرانی نہ صرف فارسی کے استاد تھے بلکہ ایک بلند پایہ محقق اور تاریخ دان بھی تھے، انکا شاہکار، اردو کی ابتدا کے متعلق انکی لازوال کتاب “پنجاب میں اردو” ہے۔

اختر شیرانی نے اُس دور میں اپنی رومانوی شاعری بالخصوص رومانوی نظموں کا لوہا منوایا جب ایک طرف غزل کے اساتذہ کا طوطی بولتا تھا تو دوسری طرف ترقی پسند بزرجمہر ادبی افق پر چھائے ہوئے تھے، لیکن اختر شیرانی مرحوم نے ایک نئی صدا بلند کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز چار دانگ پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز گم بھی ہو گئی۔

Akhter Shirani

اختر شیرانی کی نظم “اے عشق کہیں لے چل” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ نظم بہت پسند ہے۔ یہ نظم معنوی خوبیوں سے تو مالا مال ہے ہی لیکن اس میں نغمگی، بے ساختگی اور روانی بھی دیدنی ہے۔ اختر شیرانی کا مکمل کلام اس ربط پر پڑھا جا سکتا ہے۔

اے عشق کہیں لے چل

اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے
ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دُور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ہم پریم پُجاری ہیں، تُو پریم کنہیّا ہے
تُو پریم کنہیّا ہے، یہ پریم کی نیّا ہے
یہ پریم کی نیّا ہے، تُو اِس کا کھویّا ہے
کچھ فکر نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم
بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ رہے ہیں ہم
جو آس کہ تھی وہ بھی، اب توڑ رہے ہیں ہم
بس تاب نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ جبر کدہ آزاد افکار کا دشمن ہے
ارمانوں کا قاتل ہے، امّیدوں کا رہزن ہے
جذبات کا مقتل ہے، جذبات کا مدفن ہے
چل یاں سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آپس میں چھل اور دھوکے، سنسار کی ریتیں ہیں
اس پاپ کی نگری میں، اجڑی ہوئی پریتیں ہیں
یاں نیائے کی ہاریں ہیں، انیائے کی جیتیں ہیں
سکھ چین نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک مذبحِ جذبات و افکار ہے یہ دنیا
اک مسکنِ اشرار و آزار ہے یہ دنیا
اک مقتلِ احرار و ابرار ہے یہ دنیا
دور اس سے کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

یہ درد بھری دنیا، بستی ہے گناہوں کی
دل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نگاہوں کی
ظلموں کی جفاؤں کی، آہوں کی کراہوں کی
ہیں غم سے حزیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

آنکھوں میں سمائی ہے، اک خواب نما دنیا
تاروں کی طرح روشن، مہتاب نما دنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نما دنیا
للہ وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

وہ تیر ہو ساگر کی، رُت چھائی ہو پھاگن کی
پھولوں سے مہکتی ہوِ پُروائی گھنے بَن کی
یا آٹھ پہر جس میں، جھڑ بدلی ہو ساون کی
جی بس میں نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

قدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلو میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اور تیری عنایت بھی
اے طفلِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اے عشق ہمیں لے چل، اک نور کی وادی میں
اک خواب کی دنیا میں، اک طُور کی وادی میں
حوروں کے خیالاتِ مسرور کی وادی میں
تا خلدِ بریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

سنسار کے اس پار اک اس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

مغرب کی ہواؤں سے، آواز سی آتی ہے
اور ہم کو سمندر کے، اُس پار بلاتی ہے
شاید کوئی تنہائی کا دیس بتاتی ہے
چل اس کے قریں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی فضا جس تک، غم کی نہ رسائی ہو
دنیا کی ہوا جس میں، صدیوں سے نہ آئی ہو
اے عشق جہاں تُو ہو، اور تیری خدائی ہو
اے عشق وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی جگہ جس میں، انسان نہ بستے ہوں
یہ مکر و جفا پیشہ، حیوان نہ بستے ہوں
انساں کی قبا میں یہ شیطان نہ بستے ہوں
تو خوف نہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

برسات کی متوالی، گھنگھور گھٹاؤں میں
کہسار کے دامن کی، مستانہ ہواؤں میں
یا چاندنی راتوں کی شفّاف فضاؤں میں
اے زہرہ جبیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

ان چاند ستاروں کے، بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نور کی کرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خضرِ حسیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

اک ایسی بہشت آگیں وادی میں پہنچ جائیں
جس میں کبھی دنیا کے، غم دل کو نہ تڑپائیں
اور جس کی بہاروں میں جینے کے مزے آئیں
لے چل تُو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل

————

بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
یہ ایک مقطع بحر ہے یعنی ہر مصرع دو مساوی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے اور ہر ٹکڑا، ایک مصرع کے احکام میں آ سکتا ہے۔

افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن

اشاری نظام - 122 2221 122 2221

تقطیع -
اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے
نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے

اے عشق - مفعول - 122
کہیں لے چل - مفاعیلن - 2221
اس پاپ - مفعول - 122
کِ بستی سے - مفاعیلن - 2221

نفرت گَ - مفعول - 122
ہِ عالم سے - مفاعیلن - 2221
لعنت گَ - مفعول - 122
ہِ ہستی سے - مفاعیلن - 2221

پنجابی غزل از بابا نجمی

پنجاب رنگ - پسندیدہ پنجابی شاعری 2 آراء »

بابا نجمی کی ایک خوبصورت پنجابی غزل۔

اکھّراں‌ وچ سمندر رکھّاں، سوچاں وچ جہان
سجدے کرن فرشتے مینوں، میرا ناں انسان

مینوں کِنج ہلا سکدے نیں، جھکّھڑ تے طوفان
کھڑا واں، سَت زمیناں ڈھا کے، چُک کے سَت اَسمان

جھوٹھا کیہڑا، سچّا کہیڑا، کِسراں کراں پچھان
کھاندے پئے نیں قسماں سارے سر تے رکھ قرآن

گڈ جیہا ایہہ جُثّا میرا بن جاندا اے پُھل
کچے پلے جدوں کھڈونے شامیں جپھیاں پان

میرے آل دوال نہ وَسّے، اک وی مذہب غیر
دسّے شہر دا قاضی، میرا سڑیا کِنج مکان

جم دی دھی نوں دبن والا فیر قانون بنا
ڈولے دے نال پُتّر والا، منگّے پیا مکان

اس دھرتی تے جِتھّے جِتھّے لڑ دے پئے نیں لوک
اپنا جُثّا ویکھاں بابا، ہر تھاں لہو لہان

(بابا نجمی - اکھراں وچ سمندر)

شیخ سعدی شیرازی کے چند اشعار مع ترجمہ

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ رائے ديں »

بلبلِ شیراز، شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ گلستانِ شیراز کو اپنے جن دو طوطیِ ہزار نوا پر تا ابد فخر رہے گا ان میں سعدی کا نام پہلے اور حافظ کا بعد میں ہے۔ شیخ سعدی ہمارے ہاں خاص طور پر اپنی حکایات اور گلستان و بوستان کی وجہ سے معروف ہیں لیکن ایرانی ناقدینِ فن کے ہاں سعدی کا نام بحیثیت غزل گو شاعر کے بہت بلند ہے۔ فارسی غزل کو رنگ و روپ سعدی نے ہی عطا کیا ہے، سعدی نہ صرف فارسی غزل کے امام ہیں بلکہ فارسی غزل کی جو بنیاد انہوں نے رکھی اسی پر بعد میں آنے غزل گو شعراء بالخصوص حافظ نے بلند و بالا و پر شکوہ عمارت کھڑی کر دی۔

Saadi Shirazi

کلیاتِ سعدی (با تصحیح محمد علی فروغی) مطبوعہ تہران سے اپنی پسند کے چند اشعار درج کرتا ہوں۔

خُدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کُنی خاتمہ

اے خدا حضرت فاطمہ (ع) کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا۔

اگر دعوتَم رد کُنی، ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول

چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر، کہ میں آلِ رسول (ص) کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔

چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام

سعدی ناتمام و حقیر آپ (ص) کا کیا وصف بیان کرے، اے نبی (ص) آپ پر صلوۃ و سلام ہو۔

————

گر دِلے داری بہ دلبَندی بَدہ
ضایع آں کشور کہ سلطانیش نیست

اگر دل رکھتا ہے تو اسے کسی دلدار کو دے دے، ضایع ہو جاتی ہے وہ سلطنت کہ جسکا کوئی سلطان نہ ہو۔

کامراں آں دل کہ محبوبیش ہست
نیک بخت آں سر کہ سامانیش نیست

کامیاب ہے وہ دل کہ جو اس (کسی) کا محبوب ہے، نیک بخت ہے وہ سر (دماغ) کہ جس میں ساز و سامان (کا سودا / ہوس) نہیں ہے۔

دردِ عشق از تندرستی خوشترست
گرچہ بیش از صبر درمانیش نیست

عشق کا درد تندرستی سے بہتر ہے اگرچہ صبر سے آگے (صبر کے سوا) اسکا کوئی درمان نہیں ہے۔

————

وہ کہ گر من بازبینَم روئے یارِ خویش را
تا قیامت شکر گویَم کردگارِ خویش را

اے کاش کہ اگر میں اپنے دوست کا چہرہ دوبارہ دیکھ پاؤں، تو قیامت تک اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا رہوں۔

گبر و ترسا و مسلماں ھر کسی در دینِ خویش
قبلۂ دارَند و ما زیبا نگارِ خویش را

یہودی و نصرانی و مسلمان، سب کا اپنے اپنے دین میں اپنا قبلہ اور ہمارا (قبلہ) خوبصورت چہرے والا ہے۔

————

از ھر چہ می رَوَد سخنِ دوست خوشترست
پیغامِ آشنا، نفَسِ روح پرورست

میں کہیں بھی جاؤں دوست کی باتیں ہی سب سے بہتر ہیں، آشنا کا پیغام روح پرور نفس ہے۔

ھر گز وجودِ حاضرِ غایب شنیدہ ای
من درمیانِ جمع و دلم جائے دیگرست

کیا کبھی سنا کہ کوئی حاضر وجود غائب ہو گیا، (ہاں مگر میں) کہ ہجوم میں ہوتا ہوں اور میرا دل کہیں اور ہوتا ہے۔

ابنائے روزگار بہ صحرا روَند و باغ
صحرا و باغ زندہ دلاں کوئے دلبرست

دنیا داروں کیلیئے صحرا اور باغ روزی کے ذریعے ہیں جب کہ زندہ دلوں کیلیئے یہی دلبر کے کوچے ہیں۔

شب ھائے بے تو ام شبِ گورست در خیال
ور بے تو بامداد کُنَم روزِ محشرست

تیرے بغیر راتیں مجھے قبر کی راتیں لگتی ہیں اور تیرے بغیر دن مجھے محشر کا دن لگتا ہے۔

————

بر من کہ صبوحی زدہ ام، خرقہ حرامست
اے مجلسیاں راہِ خرابات کدامست

مجھ پر کہ میں صبوحی زدہ (شراب پینے والا) ہوں، خرقہ پوشی حرام ہے، اے (خرقہ پوش) ہم نشینو یہ بتاؤ کہ مے کدے کی راہ کدھر ہے۔

غیرت نَگذارَد کہ بگویَم کہ مرا کشت
تا خلق نَدانَند کہ معشوقہ چہ نامست

میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ میں یہ بتاؤں کہ مجھے کس نے مارا، تا کہ خلق کو یہ علم نہ ہو سکے کہ ہمارے محبوب کا کیا نام ہے۔

————

بَدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دل آویزِ تو مَستَم

میں نے اس سے کہا کہ تو مشکی ہے یا عبیری (دونوں خوشبو کی قسمیں ہیں) کہ تیری دل آویز خوشبو سے مَیں مست ہوا جاتا ہوں۔

بَگفتا من گِلے ناچیز بُودم
و لیکن مُدّتے با گُل نَشِستَم

اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گُل کے ساتھ نشست رہی ہے۔

جمالِ ہمنشیں در من اثَر کرد
وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہَستَم

یہ تو ہمنشیں کے جمال کا اثر ہے، وگرنہ میری ہستی تو محض خاک ہے۔

————

برگِ درختانِ سبز پیش خداوند ہوش
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار

صاحبِ عقل و دانش کے سامنے سبز درختوں کا ایک ایک پتا کردگار کی معرفت کے لیے ایک بڑی کتاب ہے۔

————

گر از بسیطِ زمیں عقل مُنعَدَم گردد
بخود گماں نَبرد ہیچ کس کہ نادانَم

اگر روئے زمین سے عقل معدوم بھی ہو جائے تو پھر بھی کوئی شخص اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرے گا کہ میں نادان ہوں۔

————

دیدۂ سعدی و دل ہمراہِ تست
تا نہ پنداری کہ تنہا می روی

سعدی کے دیدہ و دل تیرے ہمراہ ہیں، تا کہ تجھے یہ خیال نہ آئے (تو یہ نہ سوچے) کہ تُو تنہا جا رہا ہے (تنہا ہے)۔

————

کسے را کہ شیطاں بَوَد پیشوا
کجا باز گردد براہِ خدا

جس کا راہ نُما شیطان ہو، وہ کب خدا کی راہ پر واپس آتا ہے۔

————

بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مَجو
در سینہ ہائے مَردمِ عارف مزارِ ما

وفات کے بعد میری قبر زمین میں تلاش مت کرنا، کہ عارف لوگوں کہ سینوں میں میرا مزار ہے۔

Saadi's tomb

سرخ گائے، ہمنوا اور گمنام

جگرِ لخت لخت - میری یادیں رائے ديں »

میں کچھ زیادہ لائق طالب علم تو نہیں تھا لیکن بہرحال اتنا نالائق بھی نہیں تھا کہ بالکل بدھو ہی کہلواتا لیکن بچپن کی کچھ نالائقیاں ایسی ہیں کہ مجھے اکثر یاد آتی ہیں، کبھی ان پر غصہ آتا تھا اور اب ہنسی آتی ہے۔

میں شاید چھٹی جماعت میں تھا اور تازہ تازہ انگریزی کا منہ دیکھا تھا اور میرے والد صاحب مرحوم میری انگریزی پر بہت توجہ دیتے تھے، ان دنوں ٹی وی پر کسی دودھ کا اشتہار چلتا تھا جس میں وہ کہتے تھے “ریڈ کاؤ مِلک”۔ ایک دن ٹی وی پر وہ اشتہار چلا تو والد صاحب نے پوچھا۔

“وارث، ریڈ کاؤ مِلک کا کیا مطلب ہے۔”
“جی”
“ہاں کیا مطلب ہے۔”
“وہ، جی، وہ گائے، گائے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا گائے گائے، بھئی مطلب بتاؤ، اچھا چلو ایک ایک لفظ کا مطلب بتاؤ، ریڈ کا کیا مطلب ہے”
“سرخ”
“اور کاؤ کا”
“گائے”
“اور ملک کا”
“دودھ”
“تو ریڈ کاؤ ملک کا کیا مطلب ہوا؟”
“جی، وہ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ہاں”
“جی، گائے کا سرخ دودھ”

والد صاحب نے یہ سنا تو بے اختیار ہنسنا شروع کر دیا اور کہا بیوقوف کبھی دودھ بھی سرخ ہوتا ہے، اسکا مطلب ہے سرخ گائے کا دودھ۔

ٹی وی کے حوالے سے ہی ایک دوسرا واقعہ جس پر میں گھر میں سب لوگوں کی بے رحمانہ ہنسی کا نشانہ بنا تھا، وہ بھی کم و بیش اسی زمانے کا ہے۔ اردو پڑھنے کا شوق مجھے بہت تھا اور اپنی جماعت سے بڑی جماعتوں کی اردو کی کتابیں پڑھا کرتا تھا اور گھر میں اپنی اردو دانی کی دھاک بٹھا رکھی تھی۔

ان دنوں قوالی میں صابری برادران کا طوطی بولتا تھا لیکن نصرت فتح علی خان نے بھی اپنی لا جواب قوالیوں سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ہمارا سارا گھر بشمول والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے قوالیاں بڑے شوق سے سنا کرتا تھا۔ پی ٹی وی پر شاید ہر جمعرات کی رات کو ایک محفل سماع دکھائی جاتی تھی اور اسکے اشتہار وہ کافی دن پہلے ہی چلانے شروع کر دیتے تھے۔ ایک دن جب ہم سب گھر والے بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے تو نصرت فتح علی خان کی قوالی کا ایک اشتہار چلا، نصرت فتح علی خان قوال اور ہمنوا۔

والدہ بولیں، اب یہ لوگ نصرت کی قوالیاں زیادہ لگاتے ہیں۔ والد صاحب نے تائید کی اور کہا، ہاں پہلے تو صرف صابری برادران یا عزیز میاں قوال کی قوالیاں ہوتی تھیں لیکن اب اسکی بھی کافی قوالیاں ہوتی ہیں۔ میں جو پاس بیٹھا سن رہا تھا، شو مئی قسمت سے بولا، لیکن ابو یہ جو ہر قوالی میں ہمنوا ہوتا ہے سب سے زیادہ قوالیاں تو اسی کی ہوتی ہیں۔

میری بات سننی تھی کہ سب بے اختیار قہقہے مار کر ہنسنے لگے اور لگے میری اردو دانی کا مذاق اڑانے، والد صاحب نے کہا، الو ہمنوا کوئی قوال نہیں ہے بلکہ اسکے ساتھ جو قوالی کرنے والے ہوتے ہیں ان کو ہمنوا کہتے ہیں۔

مجھے “اقوالِ زریں” پڑھنے کا بھی بہت شوق رہا ہے اور لطف اس وقت آتا تھا جب صاحبِ قول کا نام بھی ساتھ لکھا ہوتا تھا لیکن اکثر اقوال ایسے ہوتے تھے جن کے نیچے گمنام لکھا ہوتا تھا، خیر اردو کے گمنام کا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن مصیبت اس وقت پڑی جب انگریزی اقوال کے ساتھ “اینانیمس” لکھا ہوتا تھا۔ میری عادت یہ بھی ہوتی تھی کہ جب کسی مشاہیر کا قول پسند آتا تھا تو پھر اس کے متعلق معلومات بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑتا تھا، اب جب کافی جگہ اقوال کے نیچے مجھے “اینانیمس” لکھا نظر آیا تو میں نے سوچا یہ کوئی بہت بڑا بندہ ہوگا تبھی تو اتنے پتے کی باتیں کرتا ہے اور جب کالج کی لائبریری اور ادھر ادھر کافی جگہ ڈھونڈ کر تھک گیا تو بلآخر ایک لغت نے میری مدد کی اور علم ہوا کہ یہ کوئی حضرت نہیں بلکہ “گمنام” کی انگلش ہے۔ اس دفعہ کسی نے ہنسی تو نہیں اڑائی لیکن اپنے آپ سے بہت شرمندہ ہوا کہ اتنا بڑا ہو کر بھی ایک لفظ کا مطلب نہ جان سکا۔

خیر اپنی جہالت کا ماتم میں کر چکا لیکن “گمنام” میرے ذہن سے نہیں نکلتا اور اب جب کبھی کوئی شعر بغیر شاعر کے نام کے لکھا دیکھتا ہوں تو بہت افسوس ہوتا ہے بلکہ شعر پڑھنے کو ہی دل نہیں کرتا، شاید کوئی خفت کہیں چُھپی ہوئی ہے۔

اُو اے غالب

جگرِ لخت لخت - میری یادیں رائے ديں »

پچھلے کچھ دنوں سے میرے گھر کا ماحول کافی خراب ہے کہ ہماری بیگم صاحبہ ہم سے بہت نالاں ہیں، وجہ اسکی کوئی خاص تو نہیں لیکن اگر کسی کو شعر و ادب سے للہی بغض ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ جی ہاں ہماری بیگم صاحبہ کو نفرت ہے شعر و ادب و کتب سے۔

اس سے یہی برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ میں گھر میں اپنا زیادہ تر وقت کتابوں میں یا کمپیوٹر کے سامنے گزارتا ہوں تو یہ کیسے ہضم ہو کہ میں بچوں کو بھی شعر یاد کروانے شروع کر دوں۔

کچھ دن پہلے میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ غالب کا شعر یاد آ گیا۔

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

نہ جانے جی میں کیا آیا کہ میں نے اپنے دونوں بیٹوں، سات سالہ حسن اور پانچ سالہ احسن سے کہا کہ جو کوئی بھی یہ شعر یاد کرے گا اسے انعام ملے گا۔ اب انعام کے لالچ میں دونوں نے شعر یاد کرنا شروع کر دیا بلکہ کر بھی لیا گو کچھ گڑ بڑ ضرور کر جاتے ہیں، حسن ‘ناداں’ کو مسلسل ‘نادان’ پڑھ رہا ہے اور احسن ‘آخر’ کو پہلے مصرعے میں ادا کرتا ہے۔ لیکن میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے کہ میں نے غالب کے بیج اپنے گھر میں بونے شروع کر دیے ہیں، اور بیگم صاحبہ کا جل جل کے برا حال ہو رہا ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ میری دو سالہ بیٹی فاطمہ کو غالب کی تصویر کی پہچان ہو گئی ہے، وہ جب بھی دیوانِ غالب پر غالب کی تصویر یا کمپیوٹر پر میرے بلاگ پر لگی ہوئی تصویر دیکھتی ہے تو زور زور سے چلانا شروع کر دیتی ہے “اُو اے غالب، اُو اے غالب۔” میں بتا نہیں سکتا کہ اس وقت مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے۔ یاد تو میں نے اس ‘اقبال’ کا نام بھی کروا دیا ہے لیکن ابھی تک اقبال کی اسے پہچان نہیں ہو سکی اور ہار بار بتانا پڑتا ہے کہ یہ اقبال ہے۔

اور فاطمہ کیلیئے غالب کی یہ تصویر اس پوسٹ میں لگا رہا ہوں کہ ‘اُو اے غالب، اُو اے غالب” کی صدائیں میرے کانوں مین رس گھولتی رہیں اور بیگم صاحبہ کے سینے پر مونگ دلتی رہیں :)

Mirza Ghalib

علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل مع اردو ترجمہ

بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبال رائے ديں »

پیامِ مشرق علامہ اقبال کی خوبصورت ترین کتب میں سے ہے، اسی لا جواب کتاب سے ایک لا جواب غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔ یہ غزل نہ صرف علامہ کی خیال آفرینی کی بہترین مثال ہے بلکہ تغزل سے بھی بھر پور ہے جو کہ علامہ کا ‘ٹریڈ مارک’ تو نہیں ہے لیکن پیامِ مشرق کی کافی غزلیں اس رنگ میں ہیں۔

Allama Iqbal

می تَراشَد فکرِ ما ہر دم خداوندے دِگر
رَست از یک بند تا افتاد دَر بندے دگر

ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا تراشتی ہے، جب وہ ایک قید سے نکلتی ہے تو کسی اور قید میں گرفتار ہوجاتی ہے۔

برسَرِ بام آ، نقاب از چہرہ بیباکانہ کش
نیست در کوئے تو چُوں من آرزو مندے دِگر

بام پر آ اور بے باک ہو کر اپنے چہرے سے نقاب اتار دے کہ تیرے کوچے میں مجھ جیسا تیرا کوئی اور آرزو مند نہیں ہے۔

بسکہ غیرت می بَرَم از دیدۂ بیناے خویش
از نگہ بافَم بہ رخسارِ تو رُوبندے دِگر

تیرا نطارہ کرنے والی اپنی ہی آنکھ سے مجھے غیرت آرہی ہے۔ اسلیے میں نظروں سے تیرے رخسار پر ایک اور نقاب بن رہا ہوں۔

یک نگہ، یک خندۂ دُزدیدہ، یک تابندہ اشک
بہرِ پیمانِ محبت نیست سوگندے دِگر

ایک نگاہ، ایک زیرِ لب تبسم، ایک چمکتا ہوا آنسو، محبت کے پیمان کیلیے اس کے علاوہ اور کوئی قسم نہیں ہے۔

عشق را نازم کہ از بیتابیِ روزِ فراق
جانِ ما را بست با دردِ تو پیوندے دِگر

اپنے عشق پر نازاں ہوں کہ اس نے فراق کے دن کی بیتابی سے میری جان کا تیرے غم کے ساتھ ایک اور پیوند لگا دیا ہے۔

تا شَوی بیباک تر در نالہ اے مرغِ بہار
آتشے گیر از حَریمِ سینہ ام چندے دِگر

اے بہار کے پرندے تا کہ تو اپنے نالے میں زیادہ بیباک ہوجائے، میرے سینے سے کچھ اور آگ لے لے۔

چنگِ تیموری شکست، آہنگِ تیموری بجاست
سُر بروں می آرد از سازِ سمرقندے دِگر

تیمور کا رباب تو ٹوٹ گیا مگر اس سے نکلنے والی آواز اب تک باقی ہے۔ وہی نغمہ اب ایک اور سمرقند کے ساز سے باہر آرہا ہے۔ (علامہ کا یہ شعر انقلابِ رُوس اور کمیونزم کے پس منظر میں ہے)۔

رہ مَدہ در کعبہ اے پیرِ حرم اقبال را
ہر زماں در آستیں دارَد خداوندے دِگر

اے حرم کے پیر، اقبال کو کعبہ میں جانے کیلیے راہ نہ دے، کہ وہ ہر زمانے میں اپنی آستیں میں ایک نیا خدا رکھتا ہے۔

————

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(پہلے رکن یعنی پہلے فاعلاتن میں مخبون شکل فَعِلاتن اور آخری رکن فاعلن میں فاعِلان بھی آ سکتا ہے سو چار اوزان اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(پہلے رکن میں 2211 اور آخری رکن میں 1212 آ سکتے ہیں)

تقطیع -

می تَراشَد فکرِ ما ہر دم خداوندے دِگر
رَست از یک بند تا افتاد دَر بندے دگر

می تراشد - فاعلاتن - 2212
فکرِ ما ہر - فاعلاتن -2212
دم خداون - فاعلاتن - 2212
دے دگر - فاعلن - 212

رست از یک - فاعلاتن - 2212
بند تا اف - فاعلاتن - 2212
تاد در بن - فاعلاتن - 2212
دے دگر - فاعلن - 212

ShareThis

امیر خسرو کی ایک غزل مع تراجم

خسرو شیریں بیاں - کلامِ امیر خسرو رائے ديں »

امیر خسرو کی ایک خوبصورت فارسی غزل مع تراجم۔

Amir Khusro

شعرِ خسرو
جاں ز تَن بُردی و دَر جانی ہنوز
درد ہا دادی و درمانی ہنوز

ترجمہ
تُو میرے جسم سے دل کو نکال کر لے گیا لیکن اسکے اندر جان ابھی باقی ہے، تو نے بہت درد دیئے لیکن انکا علاج ابھی باقی ہے۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
تن سے جاں لے کر بھی تُو جاں ہے ابھی
درد دے کر بھی تو درماں ہے ابھی

شعرِ خسرو
آشکارا سینہ ام بشگافتی
ہم چُناں در سینہ پنہانی ہنوز

ترجمہ
تو نے میرے سینے کو پھاڑ دیا ہے لیکن ابھی تک تُو اسی طرح میرے سینے میں پوشیدہ ہے۔

قریشی
سینہ میرا آشکارا کر کے چاک
میرے سینے میں تو پنہاں ہے ابھی

شعرِ خسرو
مُلکِ دل کردی خراب از تیغِ ناز
داندریں ویرانہ سلطانی ہنوز

ترجمہ
اپنی تیغِ ناز سے تُو نے میرے دل کے ملک کو ویران کر دیا لیکن اس ویرانے میں ابھی تک تیری ہی حکمرانی ہے۔

قریشی
ملکِ دل ویراں ہے تیغِ ناز سے
تو ہی ویرانے میں سلطاں ہے ابھی

شعرِ خسرو
ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز

ترجمہ
تو نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے، اپنا نرخ بڑھا کہ یہ ابھی تک ارزاں ہے۔

قریشی
اپنی قیمت دو جہاں تُو نے کہی
نرخ اونچا کر، تُو ارزاں ہے ابھی

شعرِ خسرو
جور کردی سالہا چوں کافراں
بہرِ رحمت نامسلمانی ہنوز

ترجمہ
کافروں کی طرح تو نے سال ہا سال ظلم و ستم کئے لیکن رحمت کیلیئے ابھی تک نا مسلمانی موجود ہے۔

شعرِ خسرو
جاں ز بندِ کالبد آزاد گشت
دل بہ گیسوئے تو زندانی ہنوز

ترجمہ
جان جسم کی قید سے آزاد ہو گئی ہے لیکن دل ابھی تک تیری زلفوں کی قید میں ہے۔

قریشی
جاں ہوئی آزاد تن کی قید سے
دل کو تیری زلف زنداں ہے ابھی

شعرِ خسرو
پیری و شاہد پرستی نا خوش است
خسروا تا کے پریشانی ہنوز

ترجمہ
وقتِ پیری شاہد پرستی اچھی بات نہیں، خسرو تو کب تک اس پریشانی سے دوچار رہے گا کہ جو ابھی تک ہے۔

قریشی
پیر ہو کر بھی وہ ہے شاہد پرست
اس لئے خسرو پریشاں ہے ابھی

————

بحر - بحر رمل مسدس محذوف

افاعیل - فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
(آخری رکن میں فاعلن کی جگہ فاعلان بھی آ سکتا ہے)

اشاری نظام - 2212 2212 212
(آخری رکن میں 212 کی جگہ 1212 بھی آ سکتا ہے)

تقطیع -

جاں ز تن بُردی و در جانی ہنوز
درد ہا دادی و درمانی ہنوز

جا ز تن بر - فاعلاتن - 2212
دی و در جا - فاعلاتن - 2212
نی ہنوز - فاعلان - 1212

درد ہا دا - فاعلاتن - 2212
دی و در ما - فاعلاتن - 2212
نی ہنوز - فاعلان - 1212

فیض مرحوم کی برسی اور انکی خوبصورت فارسی نعت مع ترجمہ

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ رائے ديں »

آج فیض احمد فیض مرحوم کی چوبیسویں برسی ہے، آج کے دن اقلیمِ سخن کا ایک اور فرمانروا ہم سے بچھڑ گیا۔

ع - خاک میں، کیا صُورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

Faiz Ahmed Faiz

ہمارا شہر سیالکوٹ اگر شہرِ اقبال کہلاتا ہے تو یہ شہر فیض کے فیض سے بھی فیضیاب ہے کہ شہرِ فیض بھی ہے گویا کہ ایک اور “سودائی” کا شہر۔ اقبال اور فیض میں سیالکوٹ کے علاوہ شمس العلماء مولوی سید میر حسن کا ذکر بھی قدرِ مشترک کے طور پر کیا جاتا ہے کہ آپ دونوں کے استاد تھے لیکن ایک اور بہت اہم قدرِ مشترک جس کا ذکر عموماً نہیں کیا جاتا وہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی ہیں۔ پروفیسر صاحب اقبال کے سب سے بڑے شارح و مفسر اور ایک طرح سے دوست شاگرد تھے کہ اقبال کے کلام کے مطالب خود اقبال سے مدتوں تک سمجھے اور فیض کے وہ استاد تھے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ پروفیسر چشتی نے اردو دنیا کو فیض کا فیض عطا کیا تو غلط نہ ہوگا۔ فیض احمد فیض خود فرماتے ہیں۔

“جب دسویں جماعت میں پہنچے تو ہم نے بھی تک بندی شروع کر دی اور ایک دو مشاعروں میں شعر پڑھ دیے۔ منشی سراج دین نے ہم سے کہا میاں ٹھیک ہے تم بہت تلاش سے شعر کہتے ہو مگر یہ کام چھوڑ دو، ابھی تو تم پڑھو لکھو اور جب تمھارے دل و دماغ میں پختگی آ جائے تب یہ کام کرنا۔ اس وقت یہ تضیعِ اوقات ہے۔ ہم نے شعر کہنا ترک کر دیا۔ جب ہم مَرے کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں پروفیسر یوسف سلیم چشتی اردو پڑھانے آئے جو اقبال کے مفسر بھی ہیں، تو انہوں نے مشاعرے کی طرح ڈالی اور کہا طرح پر شعر کہو۔ ہم نے کچھ شعر کہے اور ہمیں داد ملی۔ چشتی صاحب نے منشی سراج الدین کے بالکل خلاف مشورہ دیا اور کہا فوراً اس طرف توجہ کرو، شاید تم کسی دن شاعر ہو جاؤ۔”

فیض کے کلیات “نسخہ ھائے وفا” میں شامل آخری کتاب “غبار ایام ” کا اختتام فیض کی ایک خوبصورت فارسی نعت پر ہوتا ہے اور شاید کلیات میں یہ واحد نعت ہے۔ بہت دنوں سے ذہن میں تھا کہ اس نعت کو لکھوں اور آج فیض کی برسی کے موقعے پر اس خوبصورت نعت کر مع ترجمہ پوسٹ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو
آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تو

اے کہ آپ (ص) کا ہر دکھی دل میں ٹھکانہ ہے، میں نے بھی آپ کے لیے ایک اور سرائے بنائی ہے یعنی کہ میرے دکھی دل میں بھی آپ کا گھر ہو جائے۔

خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال
بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تو

تخت پر بیٹھا ہوا شاہ ملک و مال کی تشویش میں مبتلا ہے، جبکہ خاک پر بیٹھا ہوا آپ کا گدا وقت کے شاہنشاہ کے لیے بھی باعثِ رشک ہوتا ہے۔

آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر
اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لِقائے تو

وہاں (دنیا داروں کے ہاں) سونے اور چاندی کی لذات کے قصیدے ہیں جب کہ یہاں (ہم خاکساروں کے ہاں) فقط آپ کے دیدار کے نشاط کی باتیں ہیں۔

آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ
از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تو

شیخ ( اور واعظ) کی زبان قہر اور ملامت سے آتش فشاں بنی ہوئی ہے جبکہ غریبوں کے درد کی وجہ سے آپ کی چادر مبارک آپ کے آنسو سے تر ہے۔

باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُنَد
روزے بسُوئے عدل و عنایت صدائے تو

ضروری ہے کہ دنیا کے ظالم (جوابی) صدا کریں، ایک (کسی) دن عدل و عنایت کی طرف (لے جانے والی) آپ کی آواز پر یعنی آپ کی عدل و عنایت کی طرف بلانے والی آواز پر ظالموں کو لبیک کہنا ہی پڑے گا۔

میر انیس کی چند رباعیاں

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ بگڑا گویّا، قوّال بن جاتا ہے اور بگڑا شاعر مرثیہ گو۔ قوّالوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میر ببر علی انیس نے اردو میں شاہکار مرثیے کہہ کر اس ضرب المثل کو ضرور غلط ثابت کر دیا ہے بلکہ بعض اردو نقادوں کے نزدیک تو وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں، اور تو اور مولانا شبلی نعمانی کی بھی میر انیس کی شاعری کے متعلق رائے بہت بلند ہے۔

Mir Anees

شاعری میر انیس کے خون میں رچی بسی تھی کہ انکے والد میر خلیق اور بالخصوص دادا میر حسن بہت بلند پایہ شاعر تھے۔ اسی لیے تو آپ نے کہا تھا۔

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیّاحی میں
پانچویں پشت ہے شبّیر کی مدّاحی میں

میر انیس کا نام گو مرثیے کی وجہ سے ہے لیکن آپ نے بہت بلند پایہ رباعیات بھی کہی ہیں اور انہی میں سے چند لکھ رہا ہوں۔

(1)
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے

(2)
گوہر کو صَدَف میں آبرو دیتا ہے
بندے کو بغیر جستجو دیتا ہے
انسان کو رزق، گُل کو بُو، سنگ کو لعل
جو کچھ دیتا ہے جس کو، تُو دیتا ہے

(3)
کس منہ سے کہوں لائقِ تحسیں میں ہُوں
کیا لُطف جو گُل کہے رنگیں میں ہُوں
ہوتی ہے حلاوتِ سُخَن خود ظاہر
کہتی ہے کہیں شکر کہ شیریں میں ہُوں

(4)
کیا کیا دنیا سے صاحبِ مال گئے
دولت نہ گئی ساتھ، نہ اطفال گئے
پہنچا کے لحد تلک پھر آئے سب لوگ
ہمراہ اگر گئے تو اعمال گئے

(5)
سینے میں یہ دم شمعِ سحر گاہی ہے
جو ہے اس کارواں میں وہ راہی ہے
پیچھے کبھی قافلہ سے رہتا نہ انیس
اے عمرِ دراز تیری کوتاہی ہے

(6)
پہنچا جو کمال کو وطن سے نکلا
قطرہ جو گہر بنا عدن سے نکلا
تکمیلِ کمال کی غریبی ہے دلیل
پختہ جو ثمر ہوا چمن سے نکلا

(7)
خاموشی میں یاں لذّتِ گویائی ہے
آنکھیں جو ہیں بند، عین بینائی ہے
نے دوست کا جھگڑا ہے نہ دشمن کا فساد
مرقد بھی عجب گوشۂ تنہائی ہے

(8)
وہ موجِ حوادث کا تھپیڑا نہ رہا
کشتی وہ ہوئی غرق، وہ بیڑا نہ رہا
سارے جھگڑے تھے زندگی کے انیس
جب ہم نہ رہے تو کچھ بکھیڑا نہ رہا

(9)
عزّت رہے یارو آشنا کے آگے
محجوب نہ ہوں شاہ و گدا کے آگے
یہ پاؤں چلیں تو راہِ مولا میں چلیں
یہ ہاتھ جب اٹھیں تو خدا کے آگے

(10)
گُلشن میں پھروں کہ سیرِ صحرا دیکھوں
یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیراں ہُوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

(11)
آدم کو عجَب خدا نے رتبا بخشا
ادنٰی کے لیے مقامِ اعلٰی بخشا
عقل و ہنر و تمیز و جان و ایمان
اِس ایک کفِ خاک کو کیا کیا بخشا

(12)
کیوں زر کی ہوَس میں دربدر پھرتا ہے
جانا ہے تجھے کہاں؟ کدھر پھرتا ہے؟
اللہ رے پیری میں ہوَس دنیا کی
تھک جاتے ہیں جب پاؤں تو سر پھرتا ہے

(13)
دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

(14)
افسوس زمانے کا عجَب طَور ہوا
کیوں چرخِ کہن آج نیا دَور ہوا
بس یاں سے کہیں اور چلو جلد انیس
اب یاں کی زمیں اور، فلَک اَور ہوا

خواجہ حیدر علی آتش کی ایک غزل

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

خواجہ حیدر علی آتش کا اردو کلاسیکی شاعری میں ایک اپنا مقام ہے۔ اور انکا شمار مستند اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ساری زندگی بانکے پن سے گزاری کہ مشاعروں میں بھی تلوار لگا کر جاتے تھے۔ کیا خوبصورت شاعری ہے آتش کی، انکی ایک غزل جس کے کئی اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔

دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

تمھارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

بہار آئی ہے، نشّہ میں جھومتے ہیں
مُریدانِ پیرِ مُغاں کیسے کیسے

تپِ ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں
جُدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

دل و دیدہِ اہلِ عالم میں گھر ہے
تمہارے لئے ہیں مکاں کیسے کیسے

توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کیے ناتواں کیسے کیسے

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

تری کلکِ قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

کرے جس قدر شکرِ نعمت، وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے، زباں کیسے کیسے

————

بحر - بحر متقارب مثمن سالم

افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن

اشاری نظام - 221 221 221 221

تقطیع -

دہَن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

دہن پر - فعولن - 221
ہِ ان کے - فعولن - 221
گما کے - فعولن - 221
سِ کیسے - فعولن - 221

کلا ما - فعولن - 221
تِ ہے در - فعولن - 221
میا کے - فعولن - 221
سِ کیسے - فعولن - 221

جمیل الدین عالی کے چند دوہے

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

مرزا جمیل الدین احمد خان عالی کو ان کے ملی نغمے “جیوے جیوے پاکستان” اور روزنامہ جنگ کے کالموں نے ابدیت دے دی ہے لیکن اردو شاعری میں بھی انکی ایک مستقل حیثیت ہے اور کیوں نہ ہو کہ شاعری انکے خون میں رچی بسی ہے، دادا غالب کے دوست اور شاگرد، والد شاعر اور والدہ کا تعلق میر درد کے خاندان سے ہے۔ آپ صحیح معنوں میں ادبی نجیب الطرفین یا “ادیب الطرفین” ہیں!

Jamil Uddin Aali

دوہے اور عالی جی تو جیسے لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ انکی کتاب “غزلیں، دوہے، گیت” سے چند دوہے۔

دوہے کبت کہہ کہہ کر عالی من کی آگ بجھائے
من کی آگ بجھی نہ کسی سے، اسے یہ کون بتائے

لئے پھریں دُکھ اپنے اپنے، راجہ میر فقیر
کڑیاں لاکھ ہیں رنگ برنگی، ایک مگر زنجیر

عمر گنوا کر پیت میں ہم کو اتنی ہوئی پہچان
چڑھی ندی اور اُتر گئی، پر گھر ہو گئے ویران

نا مرے سر کوئی طُرہ کلغی، نا کیسے میں چھدام
ساتھ میں ہے اک ناری سانوری اور اللہ کا نام

بیتے دنوں کی یاد ہے کیسی ناگن کی پھنکار
پہلا وار ہے زہر بھرا اور دُوجا امرت دھار

تہ میں بھی ہے حال وہی جو تہ کے اوپر حال
مچھلی بچ کر جائے کہاں جب جَل ہی سارا جال

عالی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار
ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر، بھیّا کہہ گئی نار

حیدر آباد کا شہر تھا بھیّا، اِندَر کا دربار
ایک ایک گھر میں سو سو کمرے، ہر کمرے میں نار

اُودا اُودا بادل، گہری کالی گھٹا بن جائے
اس کے دھرم میں فرق ہے، جو اس موسم کو ٹھکرائے

کوئی کہے مجھے نانک پنتھی کوئی کبیر کا داس
یہ بھی ہے میرا مان بڑھانا، ہے کیا میرے پاس

اردو والے، ہندی والے، دونوں ہنسی اڑائیں
ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں

دھیرے دھیرے کمر کی سختی، کُرسی نے لی چاٹ
چپکے چپکے من کی شکتی، افسر نے دی کاٹ

کیا جانے یہ پیٹ کی آگ بھی کیا کیا اور جلائے
عالی جیسے مہا کَوی بھی “بابو جی” کہلائے

خوشی محمد ناظر کی شاہکار نظم - جوگی (مکمل)۔

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

چوھدری خوشی محمد ناظر کی نظم “جوگی” کا شمار اردو کلاسکس میں ہوتا ہے۔ اور مجھے یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے کہ اس طویل نظم، جو دو حصوں “نغمۂ حقیقت” اور “ترانۂ وحدت” پر مشتمل ہے، کو پہلی بار مکمل طور پر پیش کر رہا ہوں۔ یہ نظم خوشی محمد ناظر کے دیوان “نغمۂ فردوس” سے لی ہے۔

Khushi Muhammad Nazir

جوگی

نغمۂ حقیقت

کل صبح کے مطلعِ تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا
سب چاند ستارے ماند ہوئے، خورشید کا نور ظہور ہوا
مستانہ ہوائے گلشن تھی، جانانہ ادائے گلبن تھی
ہر وادی وادیٔ ایمن تھی، ہر کوہ پہ جلوۂ طور ہوا
جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی
شمشاد و چنار ستار ہوئے، ہر سرو و سمن طنبور ہوا
سب طائر مل کر گانے لگے، مستانہ وہ تانیں اُڑانے لگے
اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزمِ سرُور ہوا
سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزمِ نشاط سجائی تھی
بن میں، گلشن میں، آنگن میں، فرشِ سنجاب و سمور ہوا

تھا دل کش منظرِ باغِ جہاں اور چال صبا کی مستانہ
اس حال میں ایک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ

چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پر چھاؤنی چھائی تھی
تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کُہرے نے قنات لگائی تھی
یاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے
چشمے سیماب اگلتے تھے، نالوں نے دھوم مچائی تھی
اک مست قلندر جوگی نے پربت پر ڈیرا ڈالا تھا
تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبوت رمائی تھی
تھا راکھ کا جوگی کا بستر اور راکھ کا پیراہن تن پر
تھی ایک لنگوٹی زیبِ کمر جو گھٹنوں تک لٹکائی تھی
سب خلقِ خدا سے بیگانہ، وہ مست قلندر دیوانہ
بیٹھا تھا جوگی مستانہ، آنکھوں میں مستی چھائی تھی

جوگی سے آنکھیں چار ہوئیں اور جھک کر ہم نے سلام کیا
تیکھے چتون سے جوگی نے تب ناظر سے یہ کلام کیا

کیوں بابا ناحق جوگی کو تم کس لیے آ کے ستاتے ہو؟
ہیں پنکھ پکھیرو بن باسی، تم جال میں ان کو پھنساتے ہو؟
کوئی جگھڑا دال چپاتی کا، کوئی دعویٰ گھوڑے ہاتھی کا
کوئی شکوہ سنگی ساتھی کا، تم ہم کو سنانے آتے ہو؟
ہم حرص ہوا کو چھوڑ چکے، اِس نگری سے منہ موڑ چکے
ہم جو زنجیریں توڑ چکے، تم لا کے وہی پہناتے ہو؟
تم پُوجا کرتے ہو دھن کی، ہم سیوا کرتے ہیں ساجن کی
ہم جوت لگاتے ہیں من کی، تم اُس کو آ کے بجھاتے ہو؟
سنسار سے یاں مُکھ پھیرا ہے، من میں ساجن کا ڈیرا ہے
یاں آنکھ لڑی ہے پیتم سے، تم کس سے آنکھ ملاتے ہو؟

یوں ڈانٹ ڈپٹ کر جوگی نے جب ہم سے یہ ارشاد کیا
سر اُس کے جھکا کر چرنوں پر، جوگی کو ہم نے جواب دیا

ہیں ہم پردیسی سیلانی، یوں آنکھ نہ ہم سے چُرا جوگی
ہم آئے ہیں تیرے درشن کو، چِتون پر میل نہ لا جوگی
آبادی سے منہ پھیرا کیوں؟ جنگل میں کِیا ہے ڈیرا کیوں؟
ہر محفل میں، ہر منزل میں، ہر دل میں ہے نورِ خدا جوگی
کیا مسجد میں، کیا مندر میں، سب جلوہ ہے “وجہُ اللہ” کا
پربت میں، نگر میں، ساگر میں، ہر اُترا ہے ہر جا جوگی
جی شہر میں خوب بہلتا ہے، واں حسن پہ عشق مچلتا ہے
واں پریم کا ساگر چلتا ہے، چل دل کی پیاس بجھا جوگی
واں دل کا غنچہ کِھلتا ہے، گلیوں میں موہن ملتا ہے
چل شہر میں سنکھ بجا جوگی، بازار میں دھونی رما جوگی

پھر جوگی جی بیدار ہوئے، اس چھیڑ نے اتنا کام کیا
پھر عشق کے اِس متوالے نے یہ وحدت کا اِک جام دیا

اِن چکنی چپڑی باتوں سے مت جوگی کو پھسلا بابا
جو آگ بجھائی جتنوں سے پھر اس پہ نہ تیل گرا بابا
ہے شہروں میں غل شور بہت اور کام کرودھ کا زور بہت
بستے ہیں نگر میں چور بہت، سادھوں کی ہے بن میں جا بابا
ہے شہر میں شورشِ نفسانی، جنگل میں ہے جلوہ روحانی
ہے نگری ڈگری کثرت کی، بن وحدت کا دریا بابا
ہم جنگل کے پھل کھاتے ہیں، چشموں سے پیاس بجھاتے ہیں
راجہ کے نہ دوارے جاتے ہیں، پرجا کی نہیں پروا بابا
سر پر آکاش کا منڈل ہے، دھرتی پہ سہانی مخمل ہے
دن کو سورج کی محفل ہے، شب کو تاروں کی سبھا بابا
جب جھوم کے یاں گھن آتے ہیں، مستی کا رنگ جماتے ہیں
چشمے طنبور بجاتے ہیں، گاتی ہے ملار ہوا بابا
جب پنچھی مل کر گاتے ہیں، پیتم کی سندیس سناتے ہیں
سب بن کے برچھ جھک جاتے ہیں، تھم جاتے ہیں دریا بابا
ہے حرص و ہوا کا دھیان تمھیں اور یاد نہیں بھگوان تمھیں
سِل، پتھر، اینٹ، مکان تمھیں دیتے ہیں یہ راہ بھلا بابا
پرماتما کی وہ چاہ نہیں اور روح کو دل میں راہ نہیں
ہر بات میں اپنے مطلب کے تم گھڑ لیتے ہو خدا بابا
تن من کو دھن میں لگاتے ہو، ہرنام کو دل سے بھلاتے ہو
ماٹی میں لعل گنواتے ہو، تم بندۂ حرص و ہوا بابا
دھن دولت آنی جانی ہے، یہ دنیا رام کہانی ہے
یہ عالَم، عالَمِ فانی ہے، باقی ہے ذاتِ خدا بابا

ترانۂ وحدت

جب سے مستانے جوگی کا مشہورِ جہاں افسانہ ہوا
اُس روز سے بندۂ ناظر بھی پھر بزم میں نغمہ سرا نہ ہوا
کبھی منصب و جاہ کی چاٹ رہی، کبھی پیٹ کی پوجا پاٹ رہی
لیکن یہ دل کا کنول نہ کِھلا اور غنچۂ خاطر وا نہ ہوا
کہیں لاگ رہی، کہیں پیت رہی، کبھی ہار رہی، کبھی جیت رہی
اِس کلجگ کی یہی ریت رہی، کوئی بند سے غم کے رہا نہ ہوا
یوں تیس برس جب تیر ہوئے، ہم کارِ جہاں سے سیر ہوئے
تھا عہدِ شباب سرابِ نظر، وہ چشمۂ آبِ بقا نہ ہوا
پھر شہر سے جی اکتانے لگا، پھر شوق مہار اٹھانے لگا
پھر جوگی جی کے درشن کو ناظر اک روز روانہ ہوا

کچھ روز میں ناظر جا پہنچا پھر ہوش رُبا نظّاروں میں
پنجاب کے گرد غباروں سے کشمیر کے باغ بہاروں میں
پھر بن باسی بیراگی کا ہر سمت سراغ لگانے لگا
بنہال کے بھیانک غاروں میں، پنجال کی کالی دھاروں میں
اپنا تو زمانہ بیت گیا، سرکاروں میں درباروں میں
پر جوگی میرا شیر رہا پربت کی سونی غاروں میں
وہ دن کو ٹہلتا پھرتا تھا ان قدرت کے گلزاروں میں
اور رات کو محوِ تماشہ تھا انبر کے چمکتے تاروں میں
برفاب کا تھا اک تال یہاں یا چاندی کا تھا تھال یہاں
الماس جڑا تھا زمُرّد میں، یہ تال نہ تھا کہساروں میں
تالاب کے ایک کنارے پر یہ بن کا راجہ بیٹھا تھا
تھی فوج کھڑی دیوداروں کی، ہر سمت بلند حصاروں میں
یاں سبزہ و گل کا نظارہ تھا اور منظر پیارا پیارا تھا
پھولوں کا تخت اتارا تھا، پریوں نے ان کہساروں میں
یاں بادِ سحر جب آتی تھی، بھیروں کا ٹھاٹھ جماتی تھی
تالاب رباب بجاتا تھا، لہروں کے تڑپتے تاروں میں
کیا مستِ الست نوائیں تھیں ان قدرت کے مِزماروں میں
ملہار کا روپ تھا چشموں میں، سارنگ کا رنگ فواروں میں
جب جوگی جوشِ وحدت میں ہرنام کی ضرب لگاتا تھا
اک گونج سی چکّر کھاتی تھی، کہساروں کی دیواروں میں

اس عشق و ہوا کی مستی سے جب جوگی کچھ ہشیار ہوا
اس خاک نشیں کی خدمت میں یوں ناظر عرض گزار ہوا

کل رشکِ چمن تھی خاکِ وطن، ہے آج وہ دشتِ بلا جوگی
وہ رشتۂ اُلفت ٹوٹ گیا، کوئی تسمہ لگا نہ رہا جوگی
برباد بہت سے گھرانے ہوئے، آباد ہیں بندی خانے ہوئے
شہروں میں ہے شور بپا جوگی، گاؤں میں ہے آہ و بکا جوگی
وہ جوشِ جنوں کے زور ہوئے، انسان بھی ڈنگر ڈھور ہوئے
بچوں کا ہے قتل روا جوگی، بوڑھوں کا ہے خون ہَبا جوگی
یہ مسجد میں اور مندر میں، ہر روز تنازع کیسا ہے؟
پرمیشر ہے جو ہندو کا، مسلم کا وہی ہے خدا جوگی
کاشی کا وہ چاہنے والا ہے، یہ مکّے کا متوالا ہے
چھاتی سے تو بھارت ماتا کی دونوں نے ہے دودھ پیا جوگی
ہے دیس میں ایسی پھوٹ پڑی، اک قہر کی بجلی ٹوٹ پڑی
روٹھے متروں کو منا جوگی، بچھڑے بِیروں کو ملا جوگی
کوئی گرتا ہے، کوئی چلتا ہے، گرتوں کو کوئی کچلتا ہے
سب کو اک چال چلا جوگی، اور ایک ڈگر پر لا جوگی
وہ میکدہ ہی باقی نہ رہا، وہ خم نہ رہا، ساقی نہ رہا
پھر عشق کا جام پلا جوگی، یہ لاگ کی آگ بجھا جوگی
پربت کے نہ سوکھے روکھوں کو یہ پریم کے گیت سنا جوگی
یہ مست ترانہ وحدت کا چل دیس کی دھن میں گا جوگی
بھگتوں کے قدم جب آتے ہیں، کلجُگ کے کلیش مٹاتے ہیں
تھم جاتا ہے سیلِ بلا جوگی، رک جاتا ہے تیرِ قضا جوگی

ناظر نے جو یہ افسانۂ غم رُودادِ وطن کا یاد کیا
جوگی نے ٹھنڈی سانس بھری اور ناظر سے ارشاد کیا

بابا ہم جوگی بن باسی، جنگل کے رہنے والے ہیں
اس بن میں ڈیرے ڈالے ہیں، جب تک یہ بن ہریالے ہیں
اس کام کرودھ کے دھارے سے ہم ناؤ بچا کر چلتے ہیں
جاتے یاں منہ میں مگر مچھ کے، دریا کے نہانے والے ہیں
ہے دیس میں شور پکار بہت اور جھوٹ کا ہے پرچار بہت
واں راہ دکھانے والے بھی بے راہ چلانے والے ہیں
کچھ لالچ لوبھ کے بندے ہیں، کچھ مکر فریب کے پھندے ہیں
مورکھ کو پھنسانے والے ہیں، یہ سب مکڑی کے جالے ہیں
جو دیس میں آگ لگاتے ہیں، پھر اُس پر تیل گراتے ہیں
یہ سب دوزخ کا ایندھن ہیں اور نرگ کے سب یہ نوالے ہیں
بھارت کے پیارے پُوتوں کا جو خون بہانے والے ہیں
کل چھاؤں میں جس کی بیٹھیں گے، وہی پیڑ گرانے والے ہیں
جو خون خرابا کرتے ہیں، آپس میں کٹ کٹ مرتے ہیں
یہ بیر بہادر بھارت کو، غیروں سے چھڑانے والے ہیں؟
جو دھرم کی جڑ کو کھودیں گے، بھارت کی ناؤ ڈبو دیں گے
یہ دیس کو ڈسنے والے ہیں، جو سانپ بغل میں پالے ہیں
جو جیو کی رکھشا کرتے ہیں اور خوفِ خدا سے ڈرتے ہیں
بھگوان کو بھانے والے ہیں، ایشور کو رجھانے والے ہیں
دنیا کا ہے سُرجن ہار وہی، معبود وہی، مختار وہی
یہ کعبہ، کلیسا، بت خانہ، سب ڈول اسی نے ڈالے ہیں
وہ سب کا پالن ہارا ہے، یہ کنبہ اسی کا سارا ہے
یہ پیلے ہیں یا کالے ہیں، سب پیار سے اس نے پالے ہیں
کوئی ہندی ہو کہ حجازی ہو، کوئی ترکی ہو یا تازی ہو
جب نیر پیا اک ماتا کا، سب ایک گھرانے والے ہیں
سب ایک ہی گت پر ناچیں گے، سب ایک ہی راگ الاپں گے
کل شام کھنّیا پھر بن میں مرلی کو بجانے والے ہیں
آکاش کے نیلے گنبد سے یہ گونج سنائی دیتی ہے
اپنوں کے مٹانے والوں کو کل غیر مٹانے والے ہیں
یہ پریم سندیسہ جوگی کا پہنچا دو ان مہاپرشوں کو
سودے میں جو بھارت ماتا کے تن من کے لگانے والے ہیں
پرماتما کے وہ پیارے ہیں اور دیس کے چاند ستارے ہیں
اندھیر نگر میں وحدت کی جو جوت جگانے والے ہیں
ناظر یہیں تم بھی آ بیٹھو اور بن میں دھونی رما بیٹھو
شہروں میں گُرو پھر چیلوں کو کوئی ناچ نچانے والے ہیں

مرزا عبدالقادر بیدل کے چند اشعار مع ترجمہ

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ رائے ديں »

ابو المعانی مرزا عبدالقادر بیدل برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک لازوال نام ہیں، صوفیِ با صفا مرزا بیدل اُس دور کی روایت کے برعکس سلاطین اور بادشاہوں کے درباروں پر نہ جھکے اور نہ انکی شان میں مبالغہ آمیز قصیدے کہے بلکہ جب ایک شہزادے نے قصیدہ کہنے کی فرمائش کی تو نوکری چھوڑ دی۔

Abdul Qadir Bedil

بیدل کی شاعری خیال آفرینی کی شاعری ہے، ان کے دور میں شاعری کی پامال روش سے تنفر پیدا ہو چکا تھا اور “تازہ گوئی” کا چرچا تھا اور بیدل اسکے امام ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کے علاوہ، افغانستان میں اب بھی بیدل کا وہی مقام ہے جو یہاں اقبال کا ہے کہ ہر پڑھے لکھے گھر میں بیدل کے کلیات ضرور ملیں گے۔ ایرانی شعراء اور نقاد کچھ عرصہ قبل تک سبکِ ہندی کے تمام شاعروں بشمول بیدل، عرفی اور غالب وغیرہ کو سرے سے شاعر ہی نہیں مانتے تھے کہ لیکن اب ہوا بدل رہی ہے اور تہران میں بیدل کے عرس کے موقع پر بین الاقوامی کانفرنسیں منقعد ہوتی ہیں۔

Bedil Conference in Tehran

اپنی پسند کے چند اشعار درج کرتا ہوں۔

————

بحرفِ ناملائم زحمتِ دل ہا مَشَو بیدل
کہ ہر جا جنسِ سنگی ہست، باشد دشمنِ مینا

بیدل، تلخ الفاظ (ناروا گفتگو) سے دلوں کو تکلیف مت دے، کہ جہاں کہیں بھی کوئی پتھر ہوتا ہے وہ شیشے کا دشمن ہی ہوتا ہے۔

————

بستہ ام چشمِ امید از الفتِ اہلِ جہاں
کردہ ام پیدا چو گوھر، در دلِ دریا کراں

میں نے دنیا والوں کی محبت کی طرف سے اپنی چشمِ امید بند کر لی ہے اور گوھر کی طرح سمندر کے دل میں اپنا ایک (الگ تھلگ) گوشہ بنا لیا ہے۔

————

چنیں کُشتۂ حسرتِ کیستَم من؟
کہ چوں آتش از سوختن زیستَم من

میں کس کی حسرت کا کشتہ ہوں کہ آتش کی طرح جلنے ہی سے میری زیست ہے۔

اگر فانیَم چیست ایں شورِ ھستی؟
و گر باقیَم از چہ فانیستَم من؟

اگر میں فانی ہوں تو پھر یہ شور ہستی کیا ہے اور اگر باقی ہوں تو پھر میرا فانی ہونا کیا ہے۔

نہ شادم، نہ محزوں، نہ خاکم، نہ گردوں
نہ لفظَم، نہ مضموں، چہ معنیستم من؟

نہ شاد ہوں نہ محزوں ہوں، نہ خاک ہوں نہ گردوں ہوں، نہ لفظ ہوں، نہ مضموں ہوں، (تو پھر) میرے معانی کیا ہیں میری ہونے کا کیا مطلب ہے۔

————

رباعی

بیدل رقمِ خفی جلی می خواھی
اسرارِ نبی و رمزِ ولی می خواھی
خلق آئنہ است، نورِ احمد دَریاب
حق فہم، اگر فہمِ علی می خواھی

بیدل، تُو پنہاں اور ظاہر راز (جاننا) چاہتا ہے، نبی (ص) کے اسرار اور ولی (ع) کی رمزیں جاننا چاہتا ہے۔ (تو پھر) خلق آئینہ ہے، احمد (ص) کا نور اس میں دیکھ، اور حق کو پہچان اگر علی (ع) کو پہچاننا چاہتا ہے۔

————

حاصِلَم زیں مزرعِ بے بَر نمی دانم چہ شُد
خاک بُودَم، خُوں شُدَم، دیگر نمی دانم چہ شُد

اس بے ثمر کھیتی (دنیا) سے نہیں جانتا مجھے کیا حاصل ہوا، خاک تھا، خوں ہو گیا اور اسکے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہوا۔

دی مَن و صُوفی بہ درسِ معرفت پرداختیم
از رقم گم کرد و مَن دفتر نمی دانم چہ شُد

کل (روزِ ازل؟) میں اور صوفی معرفت کا سبق لے رہے تھے، اُس نے لکھا ہوا گم کر دیا اور میں نہیں جانتا کہ وہ درس (تحاریر، دفتر) کیا تھا۔

————

دل خاکِ سرِ کوئے وفا شُد، چہ بجا شُد
سر در رہِ تیغِ تو فدا شُد، چہ بجا شُد

(ہمارا) دل، کوئے وفا کی خاک ہوگیا، کیا خوب ہوا، اور سر تیری راہ میں تیری تلوار پر فدا ہوگیا، کیا خوب ہوا۔

————

با ہر کمال اندَکے آشفتگی خوش است
ہر چند عقلِ کل شدۂ بے جنوں مباش

ہر کمال کے ساتھ ساتھ تھوڑی آشفتگی (عشق، دیوانگی) بھی اچھی (ضروری) ہے، ہر چند کہ تُو عقلِ کُل ہی ہو جائے، جنون کے بغیر مت رہ۔

————

عالم بہ وجودِ من و تو موجود است
گر موج و حباب نیست، دریا ھم نیست

یہ عالم میرے اور تیرے وجود کی وجہ سے موجود ہے، اگر موج اور بلبلے نہ ہوں تو دریا بھی نہیں ہے۔

————

بسازِ حادثہ ہم نغمہ بُودن آرام است
اگر زمانہ قیامت کُنَد تو طوفاں باش

حادثہ کے ساز کے ساتھ ہم نغمہ ہونا (سُر ملانا) ہی آرام ہے، اگر زمانہ قیامت بپا کرتا ہے تو تُو طوفان بن جا۔

————

اگر عشقِ بُتاں کفر است بیدل
کسے جُز کافر ایمانی ندارَد

بیدل اگر عشقِ بتاں کفر ہے تو کافر کے سوا کوئی ایمان نہیں رکھتا۔

————

چہ لازم با خِرَد ھم خانہ بُودَن
دو روزے می تواں دیوانہ بُودَن

کیا ضروری ہے کہ ہر وقت عقل کے ساتھ ہی رہا جائے (عقل کی بات ہی سنی جائے)، دو روز دیوانہ بن کر بھی رہنا چاہیئے۔

اور اسی شعر کا پر تو اقبال کے اس شعر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

————

بُوئے گُل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
ہر کہ از بزمِ تو برخاست، پریشاں برخاست

غالب نے کہا تھا کہ

طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے

لیکن بیدل کے اس شعر کے ساتھ مرزا نے عجب ہی قیامت ڈھائی ہے کہ ہو بہو ترجمہ لکھ ڈالا، یعنی

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

مردِ قلندر

بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبال رائے ديں »

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے قبیلے، اپنی قوم، اپنی ملت، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی علامت بن جاتا ہے، انکی پہچان اور تشخص بن جاتا ہے۔ یہ بلند رتبہ خدا جسے دے دے۔

حافظ شیرازی نے کہا تھا۔

ہزار نُکتۂ باریک تر ز مُو اینجاست
نہ ہر کہ سر بَتَراشَد قلندری دانَد

یہ وہ مقام ہے کہ یہاں ہزار ہا نازک اور لطیف اور بال سے باریک نکات ہیں، ہر کوئی سر ترشوانے سے قلندر تھوڑی بن جاتا ہے۔

اقبالِ کے قلندر ہونے سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ اپنی اردو و فارسی شاعری میں ان لطیف و عظیم اسرار و رموز کو فاش کیا ہے کہ کوئی سر ترشوانے والا قلندر بھی کیا بیان کرے گا۔

Allama Muhammad Iqbal

علامہ کے پیشِ نظر یقیناً حافظ کا شعر تھا جب علامہ نے اپنے متعلق کہا تھا، اور کیا خوب کہا ہے۔

بیا بہ مجلَسِ اقبال و یک دو ساغر کَش
اگرچہ سَر نَتَراشَد قلندری دانَد

اقبال کی مجلس کی طرف آ اور ایک دو ساغر کھینچ، اگرچہ اس کا سر مُنڈھا ہوا نہیں ہے (لیکن پھر بھی) وہ قلندری رکھتا (قلندری کے اسرار و رموز جانتا) ہے۔

اے کاش کہ ہمیں بھی ایک آدھ جرعہ نصیب ہو جائے!

احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

احمد ندیم قاسمی مرحوم کی درج ذیل غزل مجھے بہت پسند ہے، اسے کم و بیش دو دہائیاں قبل ریڈیو پاکستان سے سلامت علی کی آواز میں سنا تھا اور تب سے یہ میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے۔

Ahmed Nadeem Qasmi

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے

رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے

میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے میرے

میری آنکھوں میں چراغاں سا ہے مستقبل کا
اور ماضی کا ہیولٰی ہے سَرھانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

راستہ دیکھتے رہنے کی بھی لذّت ہے عجیب
زندگی کے سبھی لمحات سہانے میرے

جو بھی چہرہ نظر آیا ترا چہرہ نکلا
تو بصارت ہے مری، یار پرانے میرے

سوچتا ہوں مری مٹّی کہاں اڑتی ہوگی
اِک صدی بعد جب آئیں گے زمانے میرے

صرف اِک حسرتِ اظہار کے پر تو ہیں ندیم
میری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے میرے

———–

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فعلن

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22

تقطیع

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

ٹوٹتے جا - فاعلاتن
تِ ہِ سب آ - فعلاتن
ء نَ خانے - فعلاتن
میرے - فعلن

وقت کی زد - فاعلاتن
مِ ہِ یادو - فعلاتن
کِ خزانے - فعلاتن
میرے - فعلن

قضیہ آٹھ گھروں کا

متفرقات رائے ديں »

جان مکین صاحب تو اپنی “تاریخی شکست” کے بعد نہ جانے کس گھر میں منہ چھپائے بیٹھے ہونگے لیکن انکے آٹھ گھروں کا قضیہ جاری ہے!

مجھے فرحت کیانی (دریچہ) نے ٹیگ کیا تھا سو حاضر ہوں لیکن آٹھوں گھر، کم از کم میری حد تک، ایک بند گلی تک پہنچ گئے ہیں۔

گھر، گھر بنانے اور اس میں رہنے کی بات کے متعلق کچھ سال قبل ایک شعر کہا تھا

دشت میں اِک گھر بنا رہنے کی چاہ
گھر میں بیٹھے ہیں تبھی تو خام ہے

:)

اردو محفل لوگو اپنے بلاگ کیلیے

متفرقات رائے ديں »

آج کچھ بلاگز دیکھتے ہوئے جب مختلف سائٹس کے لوگو دیکھے تو سوچا کہ “اردو محفل” کا بھی ایک لوگو ہونا چاہیئے جو کہ میرے بلاگ پر لگا ہو سو اردو محفل کا لوگو لیکر ایک چھوٹا سا ڈیزائن اپنے بلاگ کیلیے بنا ڈالا۔ پھر وضاحت کرتا ہوں کہ “اردو محفل” کا لوگو میرا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے میں نے اردو محفل ہی سے لیا ہے بس اسے اپنے بلاگ کیلیے “بلگوایا” ہے۔

Urdu Mehfil

مجھے ڈیزائننگ وغیرہ کا کچھ تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تعلیم حاصل کی ہے سو یقیناً اس میں “پروفیشنل ٹچز” کی کمی ہوگی۔

قتیلانِ اردو محفل اور دیگر ساتھی بلاگران سے استدعا ہے کہ اگر ہو سکے تو “اردو محفل” کا کوئی اپنی پسند کا ڈیزائن کردہ لوگو اپنے اپنے بلاگ پر ضرور لگائیں۔

جوش ملیح آبادی کی چند رباعیات

اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعری رائے ديں »

شبیر حسن خان جوش ملیح آبادی دنیائے اردو ادب میں اپنی لازوال خودنوشت “یادوں کی برات” کی وجہ سے امر ہو گئے ہیں لیکن وہ ایک اعلٰی پائے کے شاعر تھے بلکہ شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کو علامہ اقبال کے بعد سب سے بڑا شاعر بھی کہا جاتا ہے لیکن ان کی شاعری کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو فیض احمد فیض یا انکے بعد احمد فراز کو ملی۔

Josh Malihabadi

(1)
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے

(2)
زَردَار کا خَنّاس نہیں جاتا ہے
ہر آن کا وَسواس نہیں جاتا ہے
ہوتا ہے جو شدّتِ ہَوَس پر مَبنی
تا مَرگ وہ افلاس نہیں جاتا ہے

(3)
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

(4)
اوہام کو ہر اک قَدَم پہ ٹھکراتے ہیں
اَدیان سے ہر گام پہ ٹکراتے ہیں
لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حُسین
ہم اہلِ خَرابات بھی جُھک جاتے ہیں

(5)
سینے پہ مرے نقشِ قَدَم کس کا ہے
رندی میں یہ اَجلال و حَشَم کس کا ہے
زاہد، مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ
یہ دیکھ کہ اس سر پر عَلَم کس کا ہے

(6)
اِس وقت سَبُک بات نہیں ہو سکتی
توہینِ خرابات نہیں ہو سکتی
جبریلِ امیں آئے ہیں مُجرے کے لیے
کہہ دو کہ ملاقات نہیں ہو سکتی

(7)
لفظِ “اقوام” میں کوئی جان نہیں
اک نوع میں ہو دوئی، یہ امکان نہیں
جو مشرکِ یزداں ہے وہ ناداں ہے فَقَط
جو مشرکِ انساں ہے وہ انسان نہیں


جملہ حقوق بحق صریرِ خامۂ وارث محفوظ ہيں.