فریدون مشیری جدید فارسی شاعری کا ایک معتبر نام ہیں اور نوجوان ایرانی نسل میں انتہائی مقبول، انکی ایک نظم پیش کر رہا ہوں جو مجھے بہت پسند آئی۔

انکا کلام اس ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، وہیں سے یہ نظم حاصل کی ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی ‘جرأت’ خود ہی کی ہے اسلیے اگر کہیں خامی نظر آئے تو درگزر کا طلبگار ہوں۔ فریدون مشیری کی آفیشل ویب سائٹ ملاحظہ کیجیئے۔

معراج

گفت: آنجا چشمۂ خورشید هاست
(اُس نے کہا، اس جگہ سورجوں کا چشمہ ہے)
آسماں ها روشن از نور و صفا است
(آسمان نور سے روشن اور منور ہیں)
موجِ اقیانوس جوشانِ فضا است
(فضا سمندروں کی طرح جوش مار رہی ہے)
باز من گفتم که : بالاتر کجاست
(میں نے پھر پوچھا کہ اس سے اوپر کیا ہے)
گفت : بالاتر جهانی دیگر است
(اس نے کہا اس سے بالا ایک دوسرا جہان ہے)
عالمی کز عالمِ خکّی جداست
(وہ ایک ایسا عالم ہے کہ عالمِ خاکی سے جدا ہے)
پهن دشتِ آسماں بے انتهاست
(اور آسمانوں کے طول و عرض، پہنائیاں بے انتہا ہیں)
باز من گفتم که بالاتر کجاست
(میں پھر پوچھا کہ اس سے پرے کیا ہے)
گفت : بالاتر از آنجا راه نیست
(اس نے کہا، اس سے آگے راستہ نہیں ہے)
زانکه آنجا بارگاهِ کبریاست
(کیونکہ اس جگہ خدا کی بارگاہ ہے)
آخریں معراجِ ما عرشِ خداست
(ہماری آخری معراج، رسائی خدا کا عرش ہی ہے)
باز من گفتم که : بالاتر کجاست
(میں نے پھر پوچھا کہ اس سے بالاتر کیا ہے)
لحظه ای در دیگانم خیره شد
(ایک لحظہ کیلیئے میری اس بات سے وہ حیران و پریشان ہو گیا)
گفت : ایں اندیشه ها بس نارساست
(اور پھر بولا، تمھاری یہ سوچ اور بات بے تکی اور ناقابلِ برداشت ہے)
گفتمش : از چشمِ شاعر کن نگاه
(میں نے اس سے کہا، ایک شاعر کی نظر سے دیکھ)
تا نپنداری که گفتاری خطاست
(تا کہ تجھے یہ خیال نہ رہے کہ یہ بات خطا ہے)
دور تر از چشمۂ خورشید ها
(سورجوں کے چشمے سے دور)
برتر از ایں عالمِ بے انتها
(اس بے انتہا عالم سے بر تر)
باز هم بالاتر از عرشِ خدا
(اور پھر خدا کے عرش سے بھی بالا)
عرصۂ پرواز مرغِ فکرِ ماست
(ہماری فکر کے طائر کی پرواز کی فضا ہے)

3 Responses to “فریدون مشیری کی ایک نظم - معراج”


  1. الف نظامی says:

    کیا اسے تعلی کہا جا سکتا ہے؟


  2. امید says:

    بہت اچھی نظم ہے ۔ ۔

    ایک خیال آرہا ہے کہ ‘سورجوں کے چشمہ ۔ ۔ ۔کی اصطلاح ۔ ۔

    کیا سورج کی جمع ہوتی ہے؟؟؟؟؟


  3. محمد وارث says:

    شکریہ نظامی صاحب اور امید۔

    نظامی صاحب، تعلی کا مطلب، بلند، بڑا، اونچا وغیرہ ہوتے ہیں لیکن اسکا ایک مطلب ‘شیخی’ وغیرہ بھی ہے، اور ‘شاعرانہ تعلی’ اسی سے ہے یعنی شاعر جب کوئی ڈھینگ مارتا ہے یعنی اپنی کوئی شیخی بیان کرتا ہے تو اسے شاعرانہ تعلی کہا جاتا ہے۔

    اس نظم میں شاعرانہ تعلی میرے خیال میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک خوبصورت خیال ہے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے، فارسی اور اردو شاعری اسطرح کے خیالات سے پُر ہے، جیسے اقبال کا ایک شعر

    در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
    یزداں بہ کمند آور اے ہمتِ مردانہ

    میرے جنون کے دشت میں جبریل تو ایک آسانی سے قید میں آنے والا شکار ہے، اے ہمتِ مردانہ خدا پر کمند ڈال۔

    امید،

    سورج کی جمع کے سلسلے میں شاعر نے ‘سورج ھا’ کی اصطلاح استعمال کی ہے جو یقیناً جمع ہے۔ میرے خیال میں چونکہ شاعر یہ دکھانا چاہ رہا ہے کہ وہ کسی ماورائی جگہ پر ہے تو اس لیئے ایسا لکھا ہوگا، ویسے سورج ہے بھی ایک ادنٰی سا ستارہ ہماری اس کائنات میں جس میں‌ اربوں کھربوں (سورج جیسے) ستارے موجود ہیں۔

Leave a Reply