Thu 3 Jul, 2008
امیر خسرو کی غزل
Filed under: خسرو شیریں بیاں - کلامِ امیر خسروTags: امیر خسرو, بحر رمل, بحر رمل مثمن مشکول, تراجم, تقطیع, علم عروض, فارسی شاعری, فارسی کلاسیکی شاعری, مسعود قریشی
امیر خسرو کی خوبصورت ترین غزلوں میں سے ایک غزل پیش کر رہا ہوں، یوں تو خسرو کا سارا کلام ہی تصوف کی چاشنی سے مملو ہے کہ آپ خود ایک صاحبِ حال صوفی تھے، لیکن کچھ غزلیں تو کمال کی ہیں اور یہ غزل بھی انہی میں سے ایک ہے۔
اس غزل کے اشعار مختلف نسخوں میں مختلف ملتے ہیں، میں نے لوک ورثہ اشاعت گھر کے شائع کردہ انتخاب کو ترجیح دی ہے۔ اس غزل کو استاد نصرت فتح علی خان نے بہت دلکش انداز میں گایا ہے۔
شعرِ خسرو
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
ترجمہ
مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا، میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔
منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا
فدا ہُوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا
شعرِ خسرو
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
ترجمہ
جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو شکار کیلیے آئے گا۔
قریشی
غزالِ دشت، ہتھیلی پہ سر لئے ہوں گے
اس آس پر کہ تو بہرِ شکار آئے گا
شعرِ خسرو
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد
ترجمہ۔
عشق میں جو کشش ہے وہ تجھے اسطرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی، تو اگر میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔
قریشی
کشش جو عشق میں ہے، بے اثر نہیں ہوگی
جنازہ پر نہ سہی، بر مزار آئے گا
شعرِ خسرو
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد
ترجمہ
میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آجا کہ میں زندہ رہوں۔ اسکے بعد جبکہ میں زندہ نہ رہوں گا تو پھر تو کس کام کیلیے آئے گا۔
قریشی
لبوں پہ جان ہے، تُو آئے تو رہوں زندہ
رہا نہ میں، تو مجھے کیا کہ یار آئے گا
شعرِ خسرو
بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد
ترجمہ
تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل و دین و جان سب چھین لیے ہیں، کیا ہوگا اگر تو اسی طرح دو تین بار آئے گا۔
قریشی
فدا کئے دل و دیں اک جھلک پر خسرو نے
کرے گا کیا جو تُو دو تین بار آئے گا
بحر - بحر رمل مثمن مشکول
افاعیل - فَعِلاتُ فَاعِلاتُن فَعِلاتُ فَاعِلاتُن
تقطیع:
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
خَ بَ رم رَ - فعلات
سید امشب - فاعلاتن
کِ نگار - فعلات
خا ہِ آمد - فاعلاتن
سَ رِ من فِ - فعلات
دا ء راہے - فاعلاتن
کِ سوار - فعلات
خا ہِ آمد - فاعلاتن
خاور بلال says:
شاندار کلام ہے۔ منظوم ترجمہ بھی کچھ کم نہیں، فتح علی صاحب نے اس کو گایا ہے تو خوب گایا ہوگا۔ بہر حال میں ابھی تک اسے سننے سے محروم ہوں حالانکہ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عارفانہ کلام سنتا ہوں۔ اگر یہ آڈیو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے تو کیا اس کا لنک مل سکتا ہے؟ مجھے شدت سے انتظار رہے گا۔ ابھی میںکچھ سن رہا ہوں آپ بھی سننا چاہیں گے کیا http://songza.com/z/wv53k7
محمد وارث says:
شکریہ خاور صاحب پسندیدگی کیلیئے۔
نصرت نے واقعی اسے بہت خوب گایا ہے، نیٹ کا مجھے علم نہیں ہے بہرحال ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میرے پاس یہ قوالی آیڈیو کیسٹ میں ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ اسکی سی ڈی ڈھونڈ کر اسے اپ لوڈ کروں۔
والسلام
امید says:
بہت خوب ۔ ۔بہت خوبصورت کلام ہے
نصرت نے بہت عدمہ گایا ہے اسے
محمد وارث says:
شکریہ امید، مجھے خوشی ہوئی یہ جان کر آپ نے اس غزل کو سن رکھا ہے، میں آج سے بارہ چودہ سال پہلے تقریباً روزانہ ہی اسے سنتا تھا، اب بھی جب کبھی موقع مل جائے