Sat 9 Aug, 2008
غزلِ داغ
Filed under: اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعریTags: classical urdu poetry, dagh dehlvi, ilm-e-urooz, taqtee, urdu meters, urdu poetry, urdu prosody, اردو شاعری, بحر مضارع, بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف, بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف مقصور, تقطیع, داغ دہلوی, علم عروض, کلاسیکی اردو شاعری
فصیح الملک نواب مرزا خان داغ دہلوی کی ایک خوبصورت غزل۔
مانندِ گل ہیں میرے جگر میں چراغِ داغ
پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ
مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چُھپا نہ ہو
میرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ
دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ
اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ
تاریکیٔ لحد سے نہیں دل جلے کو خوف
روشن رہے گا تا بہ قیامت چراغِ داغ
مولا نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا
رہتا وگرنہ ایک زمانے کو داغِ داغ
بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
اور
مضارع مثمن اخرب مکفوف مقصور
(ان اکا اجتمعاع جائز ہے)
افاعیل: مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفَاعیلُ فاعِلُن
اور
مَفعُولُ فاعِلاتُ مَفَاعیلُ فاعِلات
تقطیع:
مانندِ گل ہیں میرے جگر میں چراغِ داغ
پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ
مانند - مفعول
گل ہِ مے رِ - فاعلات
جگر مے چَ - مفاعیل
راغ داغ - فاعلات
پروانِ - مفعول
دیک تے ہِ - فاعلات
تماشاء - مفاعیل
باغ داغ - فاعلات













ڈفر says:
جتنی سمجھ آئی اس میں سے
دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ
اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ
پسند آیا
محمد وارث says:
شکریہ ڈفر، اور اس خاکسار کے بلاگ پر تشریف لانے کیلیئے بہت شکریہ آپ کا، نوازش