Wed 27 Aug, 2008
غزل مرزا رفیع سودا
Filed under: اندازِ بیاں اور - پسندیدہ اردو شاعریTags: classical urdu poetry, ghazal, ilm-e-urooz, mirza rafi sauda, taqtee, urdu meters, urdu poetry, urdu prosody, اردو شاعری, بحر متقارب, بحر متقارب مثمن سالم, تقطیع, علم عروض, غزل, مرزا رفیع سودا, کلاسیکی اردو شاعری
اساتذہ کی زمین میں غزلیں کہنا عام بات ہے، غالب نے جہاں فارسی شاعری میں فارسی شاعری کے اساتذہ کی زمینیں استعمال کی ہیں، ایک غزل سودا کی زمین میں بھی کہی ہے۔
غالب کی غزل “جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں” ایک شاہکار ہے تو سودا کی غزل بھی بہت خوبصورت ہے:
گدا، دستِ اہلِ کرَم دیکھتے ہیں
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جَم نے اپنے
سو اک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری
تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں
غَرَض کفر سے کچھ، نہ دیں سے ہے مطلب
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھاوے
جو کچھ دوست اپنے سے ہم دیکھتے ہیں
مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سودا
اسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں
(مرزا رفیع سودا)
بحر - بحر متقارب مثمن سالم
افاعیل - فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن فَعُولُن
تقطیع:
گدا، دستِ اہلِ کرَم دیکھتے ہیں
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
گدا دس - فعولن
تِ اہلے - فعولن
کَرم دے - فعولن
ک تے ہے - فعولن
ہَ مپ نا - فعولن
ہِ دم ار - فعولن
قدم دے - فعولن
ک تے ہے - فعولن













umeed says:
بہت خوب غزل ہے اور بہت دنوں بعد آپ کے بلاگ پر آکر بہت اچھی سی تبدیلی لگ رہی ہے
محمد وارث says:
شکریہ امید، اور مجھے بھی خوشی ہوئی آپ کو دیکھ کر، بلاگ کے اچھے سے تھیم کی مسلسل تلاش میں ہوں، اور یہ تھیم اس وقت بہتر لگ رہا ہے۔
نوازش!