احمد ندیم قاسمی مرحوم کی درج ذیل غزل مجھے بہت پسند ہے، اسے کم و بیش دو دہائیاں قبل ریڈیو پاکستان سے سلامت علی کی آواز میں سنا تھا اور تب سے یہ میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے۔

Ahmed Nadeem Qasmi

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

زندہ رہنے کی ہو نیّت تو شکایت کیسی
میرے لب پر جو گِلے ہیں وہ بہانے میرے

رخشِ حالات کی باگیں تو مرے ہاتھ میں تھیں
صرف میں نے کبھی احکام نہ مانے میرے

میرے ہر درد کو اس نے اَبَدیّت دے دی
یعنی کیا کچھ نہ دیا مجھ کو خدا نے میرے

میری آنکھوں میں چراغاں سا ہے مستقبل کا
اور ماضی کا ہیولٰی ہے سَرھانے میرے

تُو نے احسان کیا تھا تو جتایا کیوں تھا
اس قدر بوجھ کے لائق نہیں شانے میرے

راستہ دیکھتے رہنے کی بھی لذّت ہے عجیب
زندگی کے سبھی لمحات سہانے میرے

جو بھی چہرہ نظر آیا ترا چہرہ نکلا
تو بصارت ہے مری، یار پرانے میرے

سوچتا ہوں مری مٹّی کہاں اڑتی ہوگی
اِک صدی بعد جب آئیں گے زمانے میرے

صرف اِک حسرتِ اظہار کے پر تو ہیں ندیم
میری غزلیں ہوں کہ نظمیں کہ فسانے میرے

———–

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فعلن

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22

تقطیع

ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
وقت کی زد میں ہیں یادوں کے خزانے میرے

ٹوٹتے جا - فاعلاتن
تِ ہِ سب آ - فعلاتن
ء نَ خانے - فعلاتن
میرے - فعلن

وقت کی زد - فاعلاتن
مِ ہِ یادو - فعلاتن
کِ خزانے - فعلاتن
میرے - فعلن

ناوک انداز جدھر دیدہء جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے

تابِ نظّارہ نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر، جو حیراں ہوں گے

تو کہاں جائے گی، کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہوں گے

ہم نکالیں گے سن اے موجِ ہوا، بل تیرا
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے

منّتِ حضرتِ عیسٰی نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے؟

چاکِ پردہ سے یہ غمزے ہیں، تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں، وہی خارِ مُغیلاں ہوں گے

سنگ اور ہاتھ وہی، وہ ہی سر و داغِ جنوں
وہی ہم ہوں گے، وہی دشت و بیاباں ہوں گے

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

(حکیم مومن خان مومن)

——-

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فعلن

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22

تقطیع

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے، کئی بے جاں ہوں گے

ناوکن دا - فاعلاتن
ز جدر دی - فعلاتن
دَ ء جانا - فعلاتن
ہو گے - فعلن

نیم بسمل - فاعلاتن
کَ ء ہو گے - فعلاتن
کَ ء بے جا - فعلاتن
ہو گے - فعلن

شعرِ خسرو
کافَرِ عِشقَم، مُسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ، حاجتِ زنّار نیست

ترجمہ
میں عشق کا کافر ہوں، مجھے مسلمانی درکار نہیں، میری ہر رگ تار تار ہوچکی ہے، مجھے زُنار کی حاجت نہیں۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
کافرِ عشق ہوں، ایماں مجھے درکار نہیں
تار، ہر رگ ہے، مجھے حاجتِ زنار نہیں

شعرِ خسرو
از سَرِ بالینِ مَن بَرخیز اے ناداں طبیب
دردمندِ عشق را دارُو بَجُز دیدار نیست

ترجمہ
اے نادان طبیب میرے سرہانے سے اٹھ جا، عشق کے بیمار کو تو صرف دیدار ہی دوا ہے۔

قریشی
میرے بالیں سے اٹھو اے مرے نادان طبیب
لا دوا عشق کا ہے درد، جو دیدار نہیں

شعرِ خسرو
شاد باش اے دل کہ فَردَا برسَرِ بازارِ عشق
مُژدۂ قتل است گرچہ وعدۂ دیدار نیست

ترجمہ
اے دل تو خوش ہوجا کہ کل عشق کے بازار میں، قتل کی خوش خبری ہے اگرچہ دیدار کا وعدہ نہیں ہے۔

قریشی
اے دلِ زار ہو خوش، عشق کے بازار میں کَل
مژدۂ قتل ہے گو وعدۂ دیدار نہیں

شعرِ خسرو
ناخُدا در کشتیٔ ما گر نَباشد گو مَباش
ما خُدا داریم، ما را ناخُدا درکار نیست

ترجمہ
اگر ہماری کشتی میں ناخدا نہیں ہے تو کوئی ڈر نہیں کہ ہم خدا رکھتے ہیں اور ہمیں ناخدا درکار نہیں۔

قریشی
ناخدا گر نہیں کشتی میں نہ ہو، ڈر کیا ہے
ہم کہ رکھتے ہیں خدا، وہ ہمیں درکار نہیں

شعرِ خسرو
خلق می گویَد کہ خُسرو بُت پرستی می کُنَد
آرے آرے می کُنَم، با خلق ما را کار نیست

ترجمہ
خلق کہتی ہے کہ خسرو بت پرستی کرتا ہے، ہاں ہاں، میں کرتا ہوں مجھے خلق سے کوئی کام نہیں ہے۔

قریشی
بُت پرستی کا ہے خسرو پہ جو الزام تو ہو
ہاں صنم پوجتا ہوں، خلق سے کچھ کار نہیں

———–

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

(مسعود قریشی کا منظوم ترجمہ بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع میں ہے۔)

افاعیل - فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلاتُن فاعِلُن
(پہلے رکن یعنی پہلے فاعلاتن میں مخبون شکل فَعِلاتن اور آخری رکن فاعلن میں فاعِلان بھی آ سکتا ہے سو چار اوزان اکھٹے ہو سکتے ہیں)

اشاری نظام - 2212 2212 2212 212
(پہلے رکن میں 2211 اور آخری رکن میں 1212 آ سکتے ہیں)

تقطیع -

کافَرِ عِشقَم، مُسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگِ من تار گشتہ، حاجتِ زنّار نیست

کافرے عش - فاعلاتن
قم مسلما - فاعلاتن
نی مرا در - فاعلاتن
کار نیس - فاعلان

ہر رگے من - فاعلاتن
تار گشتہ - فاعلاتن
حاجتے زُن - فاعلاتن
نار نیس - فاعلان

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے

ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچّے

کیا بھروسہ ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچّے

ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچّے

یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچّے

(بیدل حیدری)

بحر - بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع

افاعیل - فاعِلاتُن فَعِلاتُن فَعِلاتُن فعلن

اشاری نظام - 2212 2211 2211 22

تقطیع

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے

بھوک چہرو - فاعلاتن
پ لِ یے چا - فعلاتن
د سِ پارے - فعلاتن
بچ چے - فعلن

بیچتے پھر - فاعلاتن
تِ ہِ گلیو - فعلاتن
مِ غبارے - فعلاتن
بچ چے - فعلن

اے خدا آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبّت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھّر کر دے

صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اُجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے

مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تُنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے

شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فراز
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے

(احمد فراز)

بحر - بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
اور
بحر رمل مثمن مخبون محذوف

(دونوں بحور کا اجتماع جائز ہے)

افاعیل - فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (ع ساکن کے ساتھ)
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن (عین کے کسرہ کے ساتھ)

صدر و ابتدا میں بھی مخبون رکن جائز ہے یعنی فاعلاتن کی جگہ فعِلاتن بھی آسکتا ہے۔

تقطیع:

اے خدا آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبّت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

اے خدا آ - فاعلاتن
ج ا سے سب - فعلاتن
کَ مُ قد در - فعلاتن
کر دے - فعلن

وہ محّبت - فاعلاتن
کِ جُ انسا - فعلاتن
کُ پیمبر - فعلاتن
کر دے - فعلن

سید ضمیر جعفری اردو ادب کا ایک بہت بڑا اور معتبر نام ہیں، انکی شاعری ‘طنزیہ و مزاحیہ’ شاعری میں اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ رمضان کے حوالے سے سید ضمیر جعفری کے گہرے طنز کے حامل اشعار:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہوشیار، میں روزے سے ہوں

شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کرلیں دوست رشتہ دار، میں روزے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے لحنِ تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روزے سے ہوں

(سید ضمیر جعفری)

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

تقطیع:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

مج سِ مت کر - فاعلاتن
یار کچ گف - فاعلاتن
تار مے رو - فاعلاتن
زے سِ ہو - فاعلن

ہو نَ جائے - فاعلاتن
تج سِ بی تک - فاعلاتن
رار مے رو - فاعلاتن
زے سِ ہو - فاعلن

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا

تجھے کس نے روک رکھّا، ترے جی میں کیا یہ آئی
کہ گیا تو بھول ظالم، اِدھر التفات کرنا

ہوئی تنگ اس کی بازی مری چال سے، تو رخ پھیر
وہ یہ ہمدموں سے بولا، کوئی اس سے مات کرنا

یہ زمانہ وہ ہے جس میں، ہیں بزرگ و خورد جتنے
انہیں فرض ہو گیا ہے گلۂ حیات کرنا

جو سفر میں ساتھ ہوں ہم تو رہے یہ ہم پہ قدغن
کہ نہ منہ کو اپنے ہر گز طرفِ قنات کرنا

یہ دعائے مصحفی ہے، جو اجل بھی اس کو آوے
شبِ وصل کو تُو یا رب، نہ شبِ وفات کرنا

(غلام ہمدانی مصحفی)

بحر: رمل مثمن مشکول

افاعیل: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن

تقطیع:

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا

تِ رِ کو چِ - فعلات
ہر بہانے - فاعلاتن
مُ جِ دن سِ - فعلات
رات کرنا - فاعلاتن

کَ بِ اس سِ - فعلات
بات کرنا - فاعلاتن
کَ بِ اس سِ - فعلات
بات کرنا - فاعلاتن

خار در پیراهنِ فرزانہ می ‌ریزیم ما
گل بہ دامن بر سرِ دیوانہ می‌ ریزیم ما

ہم فرزانوں کے پیراہن پر کانٹے (اور خاک) ڈالتے ہیں، اور دامن میں جو گل ہیں وہ دیوانوں کے سر پر ڈالتے ہیں

قطره، گوهر می ‌شود در دامنِ بحرِ کرم
آبروئے خویش در میخانہ می ‌ریزیم ما

قطرہ، بحرِ کرم کے دامن میں گوھر بن جاتا ہے (اسی لیئے) ہم اپنی آبرو مے خانے میں نثار کر رہے ہیں۔

در خطرگاهِ جہاں فکرِ اقامت می ‌کنیم
در گذارِ سیل، رنگِ خانہ می ‌ریزیم ما

اس خطروں والے جہان میں ہم رہنے کی فکر کرتے ہیں، سیلاب کے راستے میں رنگِ خانہ ڈالتے ہیں (گھر بناتے ہیں)

در دلِ ما شکوه‌ٔ خونیں نمی ‌گردد گره
هر چہ در شیشہ است، در پیمانہ می‌ ریزیم ما

ہمارے دل میں کوئی خونی شکوہ گرہ نہیں ڈالتا (دل میں کینہ نہیں رکھتے) جو کچھ بھی ہمارے شیشے میں ہے وہ ہم پیمانے میں ڈال دیتے ہیں۔

انتظارِ قتل، نامردی است در آئینِ عشق
خونِ خود چوں کوهکن مردانہ می ‌ریزیم ما

عشق کے آئین میں قتل ہونے (موت) کا انتظار نامردی ہے، ہم اپنا خون فرہاد کی طرح خود ہی مردانہ وار بہا رہے ہیں۔

بحر : بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل : فَاعِلاتُن فَاعِلاتُن فَاعِلاتُن فَاعِلُن

تقطیع:

خار در پیراهنِ فرزانہ می ‌ریزیم ما
گل بہ دامن بر سرِ دیوانہ می‌ ریزیم ما

خار در پے - فاعلاتن
راھنے فر - فاعلاتن
زانہ می رے - فاعلاتن
زیم ما - فاعلن

گل بَ دامن - فاعلاتن
بر سَ رے دی - فاعلاتن
وانہ می رے - فاعلاتن
زیم ما - فاعلن

امیر خسرو کی خوبصورت ترین غزلوں میں سے ایک غزل پیش کر رہا ہوں، یوں تو خسرو کا سارا کلام ہی تصوف کی چاشنی سے مملو ہے کہ آپ خود ایک صاحبِ حال صوفی تھے، لیکن کچھ غزلیں تو کمال کی ہیں اور یہ غزل بھی انہی میں سے ایک ہے۔

اس غزل کے اشعار مختلف نسخوں میں مختلف ملتے ہیں، میں نے لوک ورثہ اشاعت گھر کے شائع کردہ انتخاب کو ترجیح دی ہے۔ اس غزل کو استاد نصرت فتح علی خان نے بہت دلکش انداز میں گایا ہے۔

شعرِ خسرو
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

ترجمہ
مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا، میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا
فدا ہُوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا

شعرِ خسرو
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

ترجمہ
جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو شکار کیلیے آئے گا۔

قریشی
غزالِ دشت، ہتھیلی پہ سر لئے ہوں گے
اس آس پر کہ تو بہرِ شکار آئے گا

شعرِ خسرو
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

ترجمہ۔
عشق میں جو کشش ہے وہ تجھے اسطرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی، تو اگر میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔

قریشی
کشش جو عشق میں ہے، بے اثر نہیں ہوگی
جنازہ پر نہ سہی، بر مزار آئے گا

شعرِ خسرو
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

ترجمہ
میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آجا کہ میں زندہ رہوں۔ اسکے بعد جبکہ میں زندہ نہ رہوں گا تو پھر تو کس کام کیلیے آئے گا۔

قریشی
لبوں پہ جان ہے، تُو آئے تو رہوں زندہ
رہا نہ میں، تو مجھے کیا کہ یار آئے گا

شعرِ خسرو
بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

ترجمہ
تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل و دین و جان سب چھین لیے ہیں، کیا ہوگا اگر تو اسی طرح دو تین بار آئے گا۔

قریشی
فدا کئے دل و دیں اک جھلک پر خسرو نے
کرے گا کیا جو تُو دو تین بار آئے گا

بحر - بحر رمل مثمن مشکول

افاعیل - فَعِلاتُ فَاعِلاتُن فَعِلاتُ فَاعِلاتُن

تقطیع:

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

خَ بَ رم رَ - فعلات
سید امشب - فاعلاتن
کِ نگار - فعلات
خا ہِ آمد - فاعلاتن

سَ رِ من فِ - فعلات
دا ء راہے - فاعلاتن
کِ سوار - فعلات
خا ہِ آمد - فاعلاتن

 شعرِ خسرو
ابر می بارد و من می شوم از یار جدا
چوں کنم دل بہ چنیں روز ز دلدار جدا

ترجمہ
برسات کا موسم ہے اور میں اپنے دوست سے جدا ہو رہا ہوں، ایسے (شاندار) دن میں، میں کسطرح اپنے دل کو دلدار سے جدا کروں۔

منظوم ترجمہ مسعود قریشی
ابر روتا ہے، ہُوا مجھ سے مرا یار جدا
دل سے ایسے میں کروں کیسے مَیں دلدار جدا

شعرِ خسرو
ابر باران و من و یار ستادہ بوداع
من جدا گریہ کناں، ابر جدا، یار جدا

ترجمہ
برسات جاری ہے، میں اور میرا یار جدا ہونے کو کھڑے ہیں، میں علیحدہ گریہ و فریاد کر رہا ہوں، باراں علیحدہ برس رہی ہے، اور یار علیحدہ رو رہا ہے۔

قریشی
ابر برسے ہے، جدائی کی گھڑی ہے سر پر
میں جدا روتا ہوں اور ابر جدا، یار جدا

شعرِ خسرو
سبزہ نوخیز و ہوا خرم و بستان سرسبز
بلبلِ روئے سیہ ماندہ ز گلزار جدا

ترجمہ
تازہ تازہ اگا ہوا سبزہ اور دل خوش کرنے والی ہوا اور سرسبز باغ ہے، اور ایسے میں سیاہ چہرے والی بد قسمت بلبل گلزار سے جدا ہونے کو ہے

قریشی
سبزہ نوخیز، ہوا شاد، گلستاں سرسبز
کیا قیامت ہے کہ بلبل سے ہے گلزار جدا

شعرِ خسرو
اے مرا در تہ ہر موی بہ زلفت بندے
چہ کنی بند ز بندم ہمہ یکبار جدا

ترجمہ
اے میرے محبوب تو نے مجھکو اپنی زلف کے ہر بال کی تہ کے نیچے باندھ لیا ہے، تو کیا باندھے گا جب تو مجھے یکبار ہی اس بند سے جدا کردے گا۔

شعرِ خسرو
دیدہ از بہر تو خونبار شد، اے مردم چشم
مردمی کن، مشو از دیدہء خونبار جدا

ترجمہ
اے آنکھ، میری آنکھ کی پتلی تیرے لیے پہلے ہی خونبار ہو گئی ہے، مہربانی کر اب تو ان خون بہانے والی آنکھوں سے جدا نہ ہونا۔

شعرِ خسرو
نعمتِ دیدہ نخواہم کہ بماند پس ازیں
ماندہ چون دیدہ ازان نعمتِ دیدار جدا

ترجمہ
میں نہیں چاہتا کہ اس کے بعد میری آنکھوں کی نعمت دیدار کی نعمت سے جدا رہے۔

قریشی
نعمتِ چشم ہے میرے لئے سامانِ عذاب
گر مری آنکھ سے ہو نعمتِ دیدار جدا

شعرِ خسرو
حسنِ تو دیر نپاید چو ز خسرو رفتی
گل بسے دیر نماند چو شد از خار جدا

ترجمہ
اے محبوب تیرا حسن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا، جب تو خسرو کے پاس سے چلا گیا کہ جب کوئی پھول کانٹے سے دور ہو جاتا ہے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہتا۔

قریشی
ہو کے خسرو سے جدا، حسن رہے گا نہ ترا
کب بقا پھول کو ہے، اس سے ہو جب خار جدا

بحر - بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
اور
بحر رمل مثمن مخبون محذوف

(دونوں بحور کا اجتماع جائز ہے)

افاعیل - فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (ع ساکن کے ساتھ)
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن (عین کے کسرہ کے ساتھ)

صدر و ابتدا میں بھی مخبون رکن جائز ہے یعنی فاعلاتن کی جگہ فعِلاتن بھی آسکتا ہے۔

تقطیع:

ابر می بارد و من می شوم از یار جدا
چوں کنم دل بہ چنیں روز ز دلدار جدا

ابر می با - فاعلاتن
رَ دُ من می - فعلاتن
شَ وَ مز یا - فعلاتن
ر جدا - فعِلن

چو کنم دل - فاعلاتن
بہ چنیں رو - فعلاتن
ز ز دلدا - فعلاتن
ر جدا - فعِلن

مشہور محقق شیخ محمد اکرام نے اپنی کتاب ‘آبِ کوثر’ میں شیخ جلال خان جمالی کے ایک قصیدے کے سات اشعار لکھے ہیں (یہ قصیدہ انہوں نے اپنے مرشد کی مدح میں لکھا ہے اور مذکورہ اشعار تشبیب کے اشعار ہیں)، وہی پیش کر رہا ہوں اور ترجمہ کرنے کی جرأت بھی کر رہا ہوں کہ یہ اشعار مجھے بہت پسند آئے، اسلیئے اگر ترجمے میں کوئی غلطی ہو تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں۔

ز آسماں گر تیغ بارَد سر نخارَد اہلِ دل
نیشِ سوزن بر دلِ نامرد زخم خنجر است

اگر آسمان تلوار بھی چلا دے تو اہلِ دل سر نہیں اٹھاتے (اور) نامرد کے دل کیلیئے سوئی کی چھبن بھی خنجر کے زخم کی طرح ہوتی ہے۔

مردِ نتواں گفت اُو را کُو تن آراید بہ زر
زینتِ مرداں ست آہن، زر زناں را زیور است

اسے مردِ ناتواں کہو (کہتے ہیں) کہ جس کا جسم (مال و) زو سے سجا ہوا ہے کہ مردوں کی زینت آہن (لوہا) ہے اور زر عورتوں کیلیئے زیور ہے۔

مرد را کردار عالی قدر گرداند نہ نام
ہر کسے کُو را علی نام است نے چُوں حیدر است

کسی بھی شخص کو اسکا کردار عالی قدر بناتا ہے نہ کے اسکا نام، ہر وہ جس کا نام علی ہو، حیدر (ر) کی طرح نہیں ہے۔

از معانی افتخارِ سینۂ عالم بوَد
عزّتِ معدن نہ از کوہ است بل از گوہر است

مطالب اور معانی ہی سینۂ عالم کا افتخار ہوتے ہیں (نا کہ بلند و بانگ لاتعداد الفاظ)، کہ معدن (کان) کی عزت (بلند و بالا) پہاڑ سے نہیں بلکہ گوہر سے ہوتی ہے۔

سُرخیِ روئے مُنافق لالہ را ماند کہ اُو
اسود القلب است اگرچہ رنگِ رویش احمر است

منافق کے چہرے کی سرخی لالہ (کے پھول) کی مانند ہوتی ہے کہ اسکا (لالہ کا) دل سیاہ ہوتا ہے اگرچہ اسکا رخ کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔

نے کسے کاہل بیاباں شُد دمِ وحدت زند
خونِ ہر آہوئے صحرائی نہ مشکِ اذفر است

کسی کاہل سے بیاباں ایک ہی لمحے میں عبور نہیں ہو سکتا (وہ تیز رفتار نہیں ہوسکتا) کہ ہر صحرائی ہرن کا خون اذفر کی خوشبو نہیں ہوتا (مشکِ اذفر: ایک خاص خوشبو ہے جو ایک خاص ہرن سے نکلتی ہے)

اصلِ ایماں در نیابی در فقیہِ بے اصول
کامتحانِ دینِ او در احتضارِ محضر است

ایمان کی اصل کسی بے اصول فقیہ سے نہیں ملے گی کہ اس کے دین کا امتحان تو موت کے پروانوں میں ہے (کہ لوگوں کی موت کے فیصلے اور کفر و ایمان کے فتوے اس کی اپنی خواہشات و پسند و ناپسند پر مبنی ہوتے ہیں)

بحر - بحر رمل مثمن محذوف

افاعیل - فَاعِلاتُن فَاعِلاتُن فَاعِلاتُن فَاعِلُن

(آخری رکن یعنی فاعلن کی جگہ مسبغ شکل یعنی فاعلان بھی آ سکتا ہے)

تقطیع

ز آسماں گر تیغ بارَد سر نخارَد اہلِ دل
نیشِ سوزن بر دلِ نامرد زخم خنجر است

زا س ما گر - فاعلاتن
تیغ بارَد - فاعلاتن
سر نخارَد - فاعلاتن
اہلِ دل - فاعلن

نیشِ سوزن - فاعلاتن
بر دِلے نا - فاعلاتن
مرد زخمے - فاعلاتن
خن جَ رست - فاعلان