Wed 11 Jun, 2008
اقبال کی ایک فارسی غزل
Comments (4) Filed under: بیا بہ مجلسِ اقبال - اردو و فارسی کلامِ اقبالTags: allama iqbal, farsi poetry, ilm-e-urooz, payam-e-mashriq, persian poetry, taqtee, urdu meters, urdu prosody, بحر ہزج, بحر ہزج مثمن اخرب, تقطیع, علامہ اقبال, علم عروض, فارسی شاعری, پیام مشرق
پیامِ مشرق سے علامہ اقبال کی ایک خوبصورت غزل پیشِ ہے، جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔
شعرِ اقبال
صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے
ترجمہ
رات بھر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں آفت لانے والی صبحیں، سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اور ایک دل کو لبھانے والا شعر ایک طرف۔
شعرِ اقبال
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشۂ فرہادے، ایں حیلۂ پرویزے
ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔
شعرِ اقبال
با پردگیاں بر گو کایں مشتِ غبارِ من
گردیست نظر بازے، خاکیست بلا خیزے
ترجمہ
فرشتوں سے کہہ دو کہ میری یہ مشتِ غبار، ایک گرد ہے لیکن نظر رکھنے والی، ایک خاک ہے لیکن طوفان اٹھانے والی۔
شعرِ اقبال
ہوشم برد اے مطرب، مستم کند اے ساقی
گلبانگِ دل آویزے از مرغِ سحر خیزے
ترجمہ
اے مطرب میرے ہوش اڑا دیتی ہے، اے ساقی مجھے مست کردیتی ہے، سحر کے وقت پرندے کی دل کو لبھانے والی آواز۔
شعرِ اقبال
از خاکِ سمرقندے ترسم کہ دگر خیزد
آشوبِ ہلاکوے، ہنگامۂ چنگیزے
ترجمہ
میں ڈرتا ہوں کہ پھر اٹھے گا سمرقند کی خاک سے، ہلاکو خان کا فتنہ اور چنگیز خان کا ہنگامہ۔
شعرِ اقبال
مطرب غزلے بیتے از مرشدِ روم آور
تا غوطہ زند جانم در آتشِ تبریزے
ترجمہ
اے مطرب مرشدِ روم کی کوئی غزل، کوئی شعر لا، تاکہ میری جان شمس تبریز کی آگ میں غوطہ زن ہو۔
بحر - بحر ہزج مثمن اخرب
افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن
تقطیع -
صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے
صد نا لَ - مفعول
ء شب گیرے - مفاعیلن
صد صبح - مفعول
بلا خیزے - مفاعیلن
صد آہ - مفعول
شرر ریزے - مفاعیلن
یک شعر - مفعول
دِ لا ویزے - مفاعیلن












