پیامِ مشرق سے علامہ اقبال کی ایک خوبصورت غزل پیشِ ہے، جو مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔

شعرِ اقبال
صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے

ترجمہ
رات بھر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں آفت لانے والی صبحیں، سینکڑوں شعلے پھینکنے والی آہیں ایک طرف اور ایک دل کو لبھانے والا شعر ایک طرف۔

شعرِ اقبال
در عشق و ہوسناکی دانی کہ تفاوت چیست؟
آں تیشۂ فرہادے، ایں حیلۂ پرویزے

ترجمہ
عشق اور ہوس کے درمیان جانتا ہے کہ کیا فرق ہے؟ عشق فرہاد کا تیشہ ہے اور ہوس پرویز کا مکر و فریب۔

شعرِ اقبال
با پردگیاں بر گو کایں مشتِ غبارِ من
گردیست نظر بازے، خاکیست بلا خیزے

ترجمہ
فرشتوں سے کہہ دو کہ میری یہ مشتِ غبار، ایک گرد ہے لیکن نظر رکھنے والی، ایک خاک ہے لیکن طوفان اٹھانے والی۔

شعرِ اقبال
ہوشم برد اے مطرب، مستم کند اے ساقی
گلبانگِ دل آویزے از مرغِ سحر خیزے

ترجمہ
اے مطرب میرے ہوش اڑا دیتی ہے، اے ساقی مجھے مست کردیتی ہے، سحر کے وقت پرندے کی دل کو لبھانے والی آواز۔

شعرِ اقبال
از خاکِ سمرقندے ترسم کہ دگر خیزد
آشوبِ ہلاکوے، ہنگامۂ چنگیزے

ترجمہ
میں ڈرتا ہوں کہ پھر اٹھے گا سمرقند کی خاک سے، ہلاکو خان کا فتنہ اور چنگیز خان کا ہنگامہ۔

شعرِ اقبال
مطرب غزلے بیتے از مرشدِ روم آور
تا غوطہ زند جانم در آتشِ تبریزے

ترجمہ
اے مطرب مرشدِ روم کی کوئی غزل، کوئی شعر لا، تاکہ میری جان شمس تبریز کی آگ میں غوطہ زن ہو۔

بحر - بحر ہزج مثمن اخرب

افاعیل - مَفعُولُ مَفَاعِیلُن مَفعُولُ مَفَاعِیلُن

تقطیع -

صد نالۂ شب گیرے، صد صبحِ بلا خیزے
صد آہِ شرر ریزے، یک شعرِ دل آویزے

صد نا لَ - مفعول
ء شب گیرے - مفاعیلن
صد صبح - مفعول
بلا خیزے - مفاعیلن

صد آہ - مفعول
شرر ریزے - مفاعیلن
یک شعر - مفعول
دِ لا ویزے - مفاعیلن

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے اندازِ شکیبائی

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر دردِ محبّت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبّت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

یہ بزمِ محبّت ہے، اس بزمِ محبّت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی

(صوفی غلام مصطفٰی تبسم)

بحر - ہزج مثمن اخرب

افاعیل: مَفعُولُ مَفاعیلُن مَفعُولُ مَفاعیلُن

تقطیع:

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

سو بار - مفعول
چمن مہکا - مفاعیلن
سو بار - مفعول
بہا را ئی - مفاعیلن

دنیا کِ - مفعول
وہی رونق - مفاعیلن
دل کی وَ - مفعول
ہِ تنہائی - مفاعیلن