ایک خوبصورت بحر - بحرِ خفیف

یہ مضمون نومبر 2007ء میں لکھا تھا اور “اردو محفل” پر شائع کیا۔

————————

حصۂ اول ۔ بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع - تعارف اور اوزان

بڑی بحر ایک دریا کی مانند ہوتی ہے۔ طغیانی میں ہو تو ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے۔ موج میں ہو تو لہریں گنتے جاؤ اور ختم نہ ہوں اور اگر کہیں روانی میں کمی آ جائے تو جگہ جگہ جوہڑ بن جاتے ہیں، ‘بڈھے’ روای کی طرح۔ اس کے مقابلے میں چھوٹی بحر ایک گنگناتی، لہراتی، بل کھاتی، مچلتی ندی کی طرح ہے۔ اور جیسے کسی دیو ہیکل پہاڑ کی اوٹ سے جھرنا ایک دم آنکھوں کے سامنے خوشنما منظر لیے آجاتا ہے اسی طرح چھوٹی بحروں میں کہی ہوئی بات دھم سے آنکھوں کو چکا چوند کردیتی ہے اور دماغ بغیر سوچ و بچار میں پڑے فوراً روشن ہو جاتا ہے۔

چھوٹی بحروں میں شاعری کرنا ہر شاعر کا مشغلہ رہا ہے۔ اساتذہ سے لیکر موجودہ عصر تک ہر شاعر نے ان بحروں میں طبع آزمائی کی ہے، اور اصنافِ سخن میں سے غزل کو اس میں خاص امتیاز حاصل ہے۔ تھوڑے اور گنے چنے الفاظ میں غزل کی رنگینیٔ بیاں کو نبھاتے ہوئے دو مصرعوں میں بات مکمل کر دینا بلکہ سامع تک پوری بلاغت سے پہنچا دینا واقعتاً ایک معانی رکھتا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چھوٹی بحروں میں کہی ہوئی اچھی غزلیں اردو ادب میں سدا بہار کا مقام رکھتی ہیں اور ان غزلوں کے اشعار اور مصرعے ضرب المثل کا مقام حاصل کرچکے ہیں۔
(more…)

بانگِ درا کا ایک کردار - عُرفی شیرازی

یہ مضمون اپریل 2007ء میں لکھا تھا اور کسی بھی موضوع پر میرا پہلا مضمون ہے، سب سے پہلے “ون اردو” پر شائع ہوا اور اسکے بعد “اردو محفل” پر۔

—————

اقبال کے تبحرِ علم اور وسعت مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ انکے کلام کے مطالعہ سے یوں لگتا ہے جیسے سارا عالم انکی نگاہ میں تھا۔ فارسی کلام تو خیر دور کی بات ہے، حالانکہ جس پہ علامہ کو فخر تھا، اور جسکے عشاق اب خال خال ہی نطر آتے ہیں، انکا اردو کلام بھی اور ابتدائی کلام بانگِ درا بھی تلمیحات سے بھر پور ہے۔ تلمیح کے لغوی معنی، اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالنا کے ہیں، کلام یا نثر میں اسکا مطلب کسی تاریخی واقعہ یا بات کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ بات قارئین کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ کلامِ اقبال دیکھئے، علامہ پے در پے، قرانی آیات، احادیثِ نبوی، تاریخ اسلام، تاریخ عالم، فلاسفہ، شعرا، متکلمین اور دیگر شخصیات کی طرف اشارہ کرتے ہی چلے جاتے ہیں، اور اقبالیات میں تو تلمیحاتِ اقبال پر باقاعدہ کتب موجود ہیں۔ کلامِ اقبال اور پیامِ اقبال کو صحیح تر سمجھنے کیلیے ضروری ہے کہ قاری علامہ کے ساتھ ساتھ رہے وگرنہ وہی بات ہو جاتی ہے کہ ایک لحظہ غافل ہوئے اور منزل کوسوں دور جا پڑی۔
(more…)

بانگِ درا کا ایک کردار - غلام قادر روہیلہ

یہ مضمون اپریل 2007ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے “ون اردو” پر شائع کیا اور اسکے بعد “اردو محفل” پر۔

اردو وکی پیڈیا نے عنوان تبدیل کرکے اسے شائع کیا ہوا ہے۔ 

———————

اقبال نے اپنی نظم بعنوان “غلام قادر روہیلہ” میں ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس میں غلام قادر روہیلہ کی بربریت دکھائی ہے، کہ اس نے مغل بادشاہ کی آنکھیں نکالنے کے بعد اس کے حرم کی عورتوں کو رقص کا حکم دیا تھا۔ لیکن روہیلہ نے جب یہ دیکھا کہ وہ شریف بیبیاں کسطرح اسکے حکم پر عمل در آمد کر رہی ہیں تو اس کو کچھ شرم آئی، اپنی تلوار اور خنجر کھول کر رکھ دیئے اور یوں ظاہر کیا کہ وہ سو گیا ہے، آخر اٹھا اور ان عورتوں سے کہا کہ سونے کا تو بہانہ تھا، میں نے تمھیں موقعہ دیا تھا کہ میرے خنجر سے ہی میرا خاتمہ کردو، لیکن افسوس خاندانِ تیمور سے غیرت ختم ہو چکی۔
(more…)

 بانگِ درا کا ایک کردار - فاطمہ بنتِ عبداللہ

یہ مضمون مئی 2007ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے “ون اردو” پر شائع ہوا، اسکے بعد “اردو محفل” پر۔

اردو وکی پیڈیا نے میرا یہ مضمون، عنوان تبدیل کر کے شائع کیا ہوا ہے۔

——————

 علامہ نے اپنی نظم فاطمہ بنتِ عبداللہ میں فاطمہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اور نظم کے عنوان کے ساتھ خود ہی وضاحت کردی ہے کہ فاطمہ عرب لڑکی تھی جو طرابلس کی جنگ 1912 میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی۔علامہ نے اپنی شعری روایات کے عین مطابق، نظم کے پہلے ہی مصرعہ میں جان ڈال دی ہے اور اپنا خیال انتہائی واشگاف الفاظ میں بیان کردیا ہے، فرماتے ہیں،فاطمہ، تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

(more…)

دنیا کا پہلا فلسفی - تھےلیز آف مائیلیٹس
(Thales of Miletus) 

 پیش لفظ

میں نے یہ مضمون مئی 2007 میں لکھا تھا اور سے سے پہلے اس “ون اردو” پر شائع کیا تھا، اسکے بعد یہ مضمون میں نے “اردو محفل” پر شائع کیا تو اسے سال 2007 کا ‘فلسفے اور تاریخ’ کے زمرے میں بہترین پوسٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔ بعد میں اسے پروفیسر سید تفسیر احمد صاحب نے اپنی ویب سائٹ ‘دانش کدہ’ پر شائع کیا۔

میرا یہ مضمون میری اجازت کے بغیر (اب تک) ان ویب سائٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے:

اردو پوائنٹ
اردو وکی پیڈیا، عنوان بدل کر
ہائے پاکستان، مصنف کے طور پر میرا نام دیا ہے
فرینڈز کارنر

مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میرے اس مضمون کو بہت پذیرائی ملی لیکن اس بات کا بھی دکھ ہے کہ اوپر والی ویب سائٹس نے میری اجازت حاصل کرنا تو کجا مصنف کے طور پر میرا نام دینا بھی گوارا نہیں کیا۔

میں یہاں پر اس مضمون کے کاپی رائٹس فری کرتا ہوں بشرطیکہ حوالے اور مصنف کے طور پر میرا نام دیا جائے۔ 

————————-

بھری گرمیوں کا دن تھا، دو متحارب بادشاہوں کی فوجیں آپس میں برسرِ پیکار تھیں، اس دن سینکڑوں لاشیں گر چکیں تھیں۔ یہ دونوں فوجیں پچھلے پندرہ سالوں سے آپس میں خون کی ندیاں بہا رہی تھیں کبھی جنگ رک جاتی تھی اور کبھی خون آشام تلواریں ہزاروں جوانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیتی تھیں۔ اور پچھلے پانچ سالوں سے تو بغیر کسی وقفے سے جنگ اور موت کے دیوتا ہی ان کی پرستشوں کے محور تھے۔ کہ یکا یک آسمان نے اپنا رنگ بدلنا شروع کیا۔ ایک عفریت تھی کہ سورج دیوتا کو نگلے جا رہی تھی۔ روزِ روشن، آہستہ آہستہ تاریکی میں بدلنا شروع ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ عفریت مکمل طور پر سورج دیوتا کو نگل گئی، لوگوں کو دن دیہاڑے ستارے نظر آنے لگے اور بھری دوپہر میں یوں محسوس ہونے لگا کہ آدھی رات ہے۔ ان متحارب لشکروں نے اپنے سورج دیوتا کا یہ حشر ہوتے دیکھا تو تلواریں، نیزے، بھالے پھینک، سجدے میں گر گئے اور مناجات پڑھنے لگے۔ سورج دیوتا کو آہستہ، آہستہ اس عفریت سے رہائی ملی اور وہ دوبارہ اپنی کرنوں سے دنیا کو ضیاء پاش کرنے لگا۔ لیکن اب دونوں لشکروں کے دل بدل چکے تھے، انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا کہ دیوتا ان کی خونریزیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہو گئے تھے، اسی وجہ سے سورج دیوتا کو یہ سزا ملی، لہذا یہ موت کا کھیل بند کر کے امن سے رہنا چاہئیے۔ جب پیادے ہی لڑنے کو تیار نہ تھے تو شاہ و وزیر بھلا کیا کرتے سو ان دونوں بادشاہوں نے آپس میں امن کا معاہدہ کیا اور عوام ہنسی خوشی رہنے لگے۔

یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں ہے بلکہ قدیم تاریخ کا ایک ایسا منفرد واقعہ ہے جس کا انتہائی صداقت سے تعین ہو چکا ہے (more…)